خیبرپختونخوا حکومت نے آئندہ ہفتے سے صوبے بھر میں سی این جی اسٹیشنز کو مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے گیس بحران کے شکار شہریوں کو جزوی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اگرچہ اسٹیشنز کھولے جائیں گے، تاہم مقررہ پابندی کے اوقات کار کے دوران سی این جی کی فروخت پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق پشاور کے مختلف علاقوں میں 65 سے زائد ایسے سی این جی اسٹیشنز کی نشاندہی کی گئی ہے جو رات گئے یا صبح سویرے خفیہ طور پر گیس فروخت کر رہے تھے۔ ان خلاف ورزیوں پر متعلقہ حکام نے ان اسٹیشنز کے خلاف کارروائی اور بندش کی سفارشات بھی تیار کر لی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سی این جی اسٹیشنز کو ممکنہ طور پر 24 گھنٹے کھولنے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم اس کا حتمی فیصلہ گیس کی دستیابی اور سپلائی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ دوسری جانب صوبے کے جنوبی اضلاع میں دہشت گردی سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی مرمت کا عمل جاری ہے، جس کے باعث گیس کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
ادھر خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں، خصوصاً شہری مراکز میں قدرتی گیس کی شدید قلت برقرار ہے۔ گھریلو صارفین کو کھانا پکانے سمیت روزمرہ کے معمولات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق سی این جی اسٹیشنز کے کھلنے سے وقتی طور پر پریشر میں کمی آ سکتی ہے، تاہم مستقل حل کے لیے گیس کی پیداوار اور ترسیل کے نظام میں بہتری ناگزیر ہے۔
حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ گیس کے استعمال میں احتیاط برتیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔
خیبرپختونخوا میں سی این جی اسٹیشنز کھولنے کا فیصلہ، شہریوں کو ریلیف ملنے کی امید
19