خلع کے بعد خاتون کو مقدمات میں الجھانا عزتِ نفس پر حملہ قرار، سپریم کورٹ نے سابق شوہر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا.

27

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ خلع کے بعد کسی خاتون کو انتقامی کارروائی کے تحت مقدمات میں الجھانا، اس کی عزتِ نفس، خود مختاری اور بنیادی حقوق پر شدید حملہ ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سابق شوہر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی سابقہ اہلیہ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے 9 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی نظام کو ذاتی انتقام، ہراساں کرنے یا خواتین کی تذلیل کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ بدنیتی پر مبنی مقدمہ بازی کو روکنا اور سائلین کی عزتِ نفس کا تحفظ کرنا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
حکمنامے کے مطابق سابق شوہر کو 30 دن کے اندر جرمانے کی رقم اپنی سابقہ اہلیہ کو ادا کرنا ہوگی، جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں یہ رقم فیملی کورٹ کے ذریعے وصول کی جائے گی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانونی طور پر خلع لینے اور عدت مکمل کرنے کے بعد خاتون کو دوسری شادی کا مکمل آئینی اور شرعی حق حاصل ہے اور اس کے لیے سابق شوہر کی اجازت درکار نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ جھوٹے فوجداری مقدمات، کردار کشی اور بے بنیاد الزامات کا مقصد صرف خواتین پر دباؤ ڈالنا اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2014 میں پشاور کی فیملی کورٹ نے حق مہر سے دستبرداری کے عوض خاتون کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کی تھی۔ خاتون نے سابق شوہر پر تشدد، گھر سے نکالنے اور اپنی چار سالہ بیٹی کو ماں سے جدا رکھنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ بعد ازاں فیملی کورٹ نے کمسن بچی کی تحویل بھی ماں کے حوالے کر دی تھی۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ خلع اور عدت کی تکمیل کے بعد خاتون نے دوسری شادی کر لی، جس کے بعد سابق شوہر نے مختلف قانونی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ خاتون ابھی بھی اس کے نکاح میں ہے۔
پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مجسٹریٹ پہلے ہی ان الزامات کو مسترد کر چکے تھے، جبکہ اندراجِ مقدمہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد سابق شوہر نے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا، تاہم دونوں عدالتوں نے اس کے مؤقف کو تسلیم نہیں کیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ملک بھر کی عدالتوں کو ہدایت کی کہ نکاح اور خاندانی تنازعات میں قانون کے غلط استعمال، انتقامی مقدمہ بازی اور خواتین کو ہراساں کرنے کے حربوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں