🚨 لاہور ٹیوشن سینٹر سانحہ: ملبے تلے دبنے والی خاتون ٹیچر کا پہلا بیان سامنے آ گیا.

26

لاہور (مانسہرہ ڈاٹ کام)
لاہور کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والے افسوسناک ٹیوشن سینٹر سانحے کے بعد ملبے تلے دبنے والی خاتون ٹیچر کا پہلا بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بعض دعوؤں کی تردید کی ہے۔
خاتون ٹیچر نے بتایا کہ:
“یہ اللہ کی طرف سے ایک حادثہ تھا۔ اس وقت میں، میری بیٹی، میرے جیٹھ کے بچے اور میرے دیور کی ڈیڑھ سالہ بچی بھی وہاں موجود تھے۔ میں اور میری بیٹی بھی ملبے تلے دب گئے تھے اور ہمیں بھی چوٹیں آئی ہیں۔ مجھے ابھی تک اپنے تمام اہلِ خانہ کی مکمل صورتحال کا علم نہیں۔”
صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کہ آیا حادثے کے وقت چھت پر تعمیراتی کام جاری تھا، خاتون نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا:
“یہ بات بالکل غلط ہے۔ حادثے کے وقت چھت پر کوئی مزدور کام نہیں کر رہا تھا۔ ہاں، اس سے پہلے چھت کی مرمت اور اینٹوں کی نئی چھت ضرور بنوائی گئی تھی، لیکن مالی مشکلات کے باعث ہم لینٹر نہیں ڈال سکے تھے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے گھر کے مالی حالات بہتر نہیں، وہ خود محنت مزدوری کر کے بچوں کو پڑھاتی ہیں جبکہ ان کے شوہر ریڑھی لگا کر گھر کا خرچ چلاتے ہیں۔
خاتون کا کہنا تھا:
“اگر گھر میں کسی قسم کا تعمیراتی کام ہو یا بجلی بند ہو تو میں بچوں کو پہلے ہی چھٹی دے دیتی ہوں۔ میں ایسے حالات میں کبھی کلاس نہیں لیتی کیونکہ یہ بچے میرے اپنے بچوں کی طرح ہیں۔”
جب صحافی نے پوچھا کہ آیا حادثے کی وجہ گارڈر ٹوٹنا تھا، تو خاتون نے آبدیدہ ہوتے ہوئے جواب دیا:
“مجھے خود نہیں معلوم کیا ہوا۔ میں خود ملبے کے نیچے دبی ہوئی تھی، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ کمرے کی کیا حالت ہوئی اور بچے کیسے ملبے تلے آ گئے۔”
پولیس اور متعلقہ ادارے واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حادثے کے اصل اسباب کا فیصلہ تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں