سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ ایران اور عمان اب مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کریں گے اور حالیہ جنگ کا مقصد آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ تاہم اس دعوے کی باضابطہ طور پر کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس آبی راستے کے شمالی ساحل پر ایران جبکہ جنوبی ساحل پر عمان اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں، تاہم بین الاقوامی جہاز رانی سے متعلق قوانین بھی اس گزرگاہ پر لاگو ہوتے ہیں۔
اب تک ایران اور عمان کی جانب سے ایسا کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا کہ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز کا مشترکہ کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی ثابت نہیں ہوا کہ حالیہ جنگ کا واحد مقصد آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز خطے کی سلامتی، عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی خبر یا دعوے کی تصدیق مستند سرکاری ذرائع سے کرنا ضروری ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق دعوے زیرِ گردش، ایران اور عمان کے مشترکہ کنٹرول کی باضابطہ تصدیق نہیں.
24