بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے علاقے باروئی پور میں 11 سالہ بچی کے مبینہ اجتماعی زیادتی اور قتل کے بعد مشتعل ہجوم کے تشدد سے جان گنوانے والے نوجوان اندرجیت مونڈل کو پولیس نے بے گناہ قرار دے دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ اندرجیت مونڈل کا واقعے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا، جبکہ ہجوم کے تشدد، توڑ پھوڑ اور نوجوان کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث 20 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اندرجیت مونڈل کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ ہجوم کے تشدد میں ملوث افراد کے خلاف قتل سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پولیس نے 11 سالہ بچی سے مبینہ اجتماعی زیادتی اور قتل کے الزام میں چار ملزمان کو بھی گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق تین ملزمان نے دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف کیا، جبکہ ایک ملزم مبینہ طور پر فرار کی کوشش کے دوران پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ چوتھے گرفتار ملزم کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
بھارت: زیادتی و قتل کیس میں ہجوم کے ہاتھوں مارا جانے والا نوجوان بے گناہ قرار، 20 افراد گرفتار.
26