برطانیہ میں ایک لاکھ پولیس اہلکاروں کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک، سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے.

30

برطانیہ میں تقریباً ایک لاکھ پولیس اہلکاروں کے نام اور رابطے کی معلومات ڈارک ویب پر لیک ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد سنگین جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں کرنے والے اہلکاروں کی سلامتی پر شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایک بڑے سائبر حملے کا حصہ ہے، جس میں وزارتِ دفاع، وزارتِ داخلہ، نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) اور کراؤن پراسیکیوشن سروس (CPS) کے ڈیٹا کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیکرز نے پولیس نیشنل لیگل ڈیٹا بیس میں دراندازی کرکے پولیس اہلکاروں کی شناخت، رابطہ معلومات اور ان کی متعلقہ پولیس فورسز سے وابستگی سمیت حساس معلومات حاصل کیں۔ یہ ڈیٹا بیس انگلینڈ اور ویلز کی تمام پولیس فورسز استعمال کرتی ہیں۔
حکام کے مطابق حملے کے پیچھے مبینہ طور پر سائبر جرائم پیشہ گروہ ExfilSquad ملوث ہے، جو حالیہ عرصے میں مغربی ممالک کے متعدد اداروں پر ہونے والے سائبر حملوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل برطانیہ کے محکمۂ تعلیم پر بھی سائبر حملہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 6 لاکھ 7 ہزار سے زائد ریکارڈز ڈارک ویب پر شائع کر دیے گئے تھے۔
تحقیقات کے مطابق ہیکرز کا بنیادی مقصد نظریاتی نہیں بلکہ مالی فائدہ حاصل کرنا تھا۔ ہیکرز نے اپنے پیغام میں اداروں کو خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک بار ڈیٹا ڈارک ویب پر شائع ہو جائے تو اسے مکمل طور پر ہٹانا ممکن نہیں رہتا، اس لیے تاوان کی ادائیگی ہی نقصان کم کرنے کا راستہ ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں اس وقت 1 لاکھ 45 ہزار 550 مستقل پولیس اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں سے بیشتر اپنی روزمرہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لیے اس ڈیٹا بیس کا استعمال کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں