اگر گلیشیائی جھیل پھٹ جائے تو کیا ہوتا ہے؟

20

گلیشیائی جھیل اس وقت بنتی ہے جب پگھلتا ہوا برفانی پانی پہاڑوں کے درمیان جمع ہوتا رہتا ہے۔ یہ جھیلیں قدرتی طور پر برف، مٹی اور پتھروں کے بند کے پیچھے بنتی ہیں، جو اکثر کمزور اور غیر مستحکم ہوتی ہیں۔
اگر جھیل کا قدرتی بند کمزور ہو کر اچانک ٹوٹ جائے تو پانی بہت تیزی سے نیچے کی طرف بہنے لگتا ہے۔ اس خطرناک سیلاب کو گلیشیائی جھیل پھٹنے کا سیلاب، یعنی GLOF (Glacial Lake Outburst Flood) کہا جاتا ہے۔
پانی اپنے ساتھ مٹی، برف اور بڑے پتھر بھی بہا سکتا ہے، جس سے راستے میں آنے والی چیزیں تباہ ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کے لیے خطرہ
پاکستان کے شمالی علاقوں کی کئی وادیاں پہاڑوں کے درمیان واقع ہیں، اس لیے اچانک آنے والا سیلاب تیزی سے نیچے پہنچ سکتا ہے۔ اس سے گاؤں، سڑکیں، پل، کھیت اور بجلی کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
تاہم ہر گلیشیائی جھیل کا پھٹنا لازمی نہیں ہوتا، کیونکہ خطرہ جھیل کے سائز، بند اور پانی کی صورتحال پر منحصر ہوتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
سیٹلائٹ نگرانی، وارننگ سسٹم اور مقامی لوگوں کی بروقت تیاری نقصان کو کافی حد تک کم کر سکتی ہے۔ حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ خطرناک جھیلوں کی مسلسل نگرانی کریں اور ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے Emergency Response Plans تیار رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں