نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے سے تباہ کن سیلاب، چند منٹوں میں دریا بپھر گئے.

24

نیپال / تبت سرحد – نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ ماہرین کے مطابق راسووا کے پہاڑی علاقے میں تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر موجود گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی میں جا گرا، جس کے ساتھ برف، چٹان، مٹی اور تلچھٹ کا ایک طاقتور ریلا بھی نیچے آیا۔
سیلابی ریلے نے Lhende River کے نظام کو متاثر کیا اور اس کے اثرات Bhote Koshi اور Trishuli دریاؤں تک پہنچے۔ Galchhi کے علاقے میں پانی کی سطح صرف 30 منٹ میں تقریباً 9 میٹر بلند ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے قریبی آبادیاں شدید متاثر ہوئیں۔
ماہرین کے مطابق ممکنہ زلزلہ، برف پگھلنے اور موسمی حالات نے گلیشیئر کے ٹوٹنے میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے، تاہم حتمی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ سانحہ ہمالیہ کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی نظام کے بڑھتے خطرات کی ایک بڑی مثال ہے۔ ماہرین نے گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی اور جدید Early Warning Systems کی ضرورت پر زور دیا ہے، کیونکہ ایسے واقعات پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیا کے دریائی نظام اور پانی کی سلامتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
نیپال اور چین دونوں ممالک میں امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں۔ تاہم مشکل جغرافیائی حالات کے باعث امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں