میاں داؤد کا متنازعہ بیان: سانحہ پمز کو عمران خان کے کیس سے جوڑنے کی کوشش.

2

اسلام آباد – پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما میاں داؤد نے سانحہ پمز (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) پر ایک متنازعہ بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے اس المیے کو عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔
میاں داؤد نے اپنے بیان میں کہا:
“ذرا سوچیں کہ سانحہ پمز کا عمران خان کو کتنا فائدہ ہو سکتا ہے تو آپ کو اس سانحے کے پیچھے ایک طے شدہ منصوبہ بندی نظر آئے گی۔ یہ بات جانتے سارے ہی ہیں لیکن کہہ کوئی نہیں رہا۔”
ان کا کہنا تھا کہ چند دنوں میں پی ٹی آئی سانحہ پمز کے تمام اخباری تراشے ساتھ لگا کر سپریم کورٹ میں یہ کہتی نظر آئے گی کہ پمز میں حالات ہی ایسے ہیں، اس لیے پمز کی بجائے شفا ہسپتال ہی عمران خان کو منتقل کیا جانا چاہیے۔
اعلیٰ افسران پر سنگین الزامات
میاں داؤد نے مزید کہا:
“جب تک 10/12 کے قریب اعلیٰ سرکاری افسران کی اکتوبر 2026 تک ریٹائرمنٹیں مکمل نہیں ہو جاتیں، تب تک ڈیپ اسٹیٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے والے یہ چند اعلیٰ سرکاری افسران آپ کو اپنے ایجنٹ اور ٹائوٹ کے لیے کچھ نہ کچھ کر جانے کی خاطر نہ جانے کتنے مزید پاکستانیوں کی زندگیوں سے کھیلتے نظر آئیں گے۔”
انہوں نے ان افسران کو “بھیڑیئے” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے کسی کی بھی جان لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ریٹائرمنٹوں کے بعد سب سکون ہو جائے گا۔
دعا
میاں داؤد نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا:
“اللہ رب العالمین متاثرہ خاندانوں کو اس عظیم دکھ اور غم کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔”
تنازعہ
میاں داؤد کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جہاں کچھ لوگ ان کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں تو کچھ اسے بے بنیاد اور سانحے کا سیاسی استعمال قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سانحہ پمز کے حوالے سے ابھی تک کسی بھی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں