نیپال میں گلیشیائی جھیل پھٹنے کا جو منظر آج آپ نے دیکھا، وہ پاکستان کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے۔ ہمارے پہاڑوں میں صورتحال روز بروز نازک ہوتی جا رہی ہے، اور آنے والے دن بہت اہم ہیں۔
جھیلیں پھیل رہی ہیں، خطرہ بڑھ رہا ہے
سپارکو کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق، پگھلنے کے نتیجے میں اب 105 جھیلیں پگھل کر بن چکی ہیں، جبکہ پہلے یہ تعداد صرف 40 تھی ۔
کچھ جھیلیں تو اپنی پچھلی ریکارڈ شدہ حد سے بھی زیادہ پھیل چکی ہیں، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے ۔ جب کسی جھیل کا پانی اس کی تاریخی حد سے بڑھ جاتا ہے تو مٹی اور پتھروں سے بنا قدرتی بند ٹوٹنے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے، جس سے نیچے کی وادیوں میں تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ۔
سپارکو کی ہدایت اور تیاریاں
سپارکو نے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خاص طور پر ان خطرناک جھیلوں کے نیچے والی وادیوں میں ہائی الرٹ رہیں اور اپنی تیاری مکمل رکھیں ۔
سپارکو پگھلنے کے پورے سیزن میں سیٹلائٹ کے ذریعے 24/7 نگرانی جاری رکھے گا۔ جیسے ہی کسی جھیل کے سائز میں اچانک اضافہ یا کوئی خطرے کی علامت نظر آئے، فوراً متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جائے گا تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں ۔
پاکستان کے پہاڑی علاقے: تباہی کے کنارے
پاکستان میں اس وقت 3,044 گلیشیائی جھیلیں ہیں، جن میں سے 131 کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، اور ان سے 7.1 ملین سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں ۔
گلگت بلتستان اور بالائی خیبرپختونخوا خاص طور پر زیادہ خطرے میں ہیں، جہاں پگھلنے کی رفتار بہت تیز ہے اور نئی جھیلیں بن رہی ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں ہمارے پہاڑی ماحولیاتی نظام کو بہت تیزی سے بدل رہی ہیں، اور ہر درجے کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت نیچے آباد لوگوں کے لیے خطرہ بڑھاتا ہے ۔
نیپال کا واقعہ ہمارے لیے ایک سبق ہے۔ ہمیں سپارکو اور دیگر اداروں کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا اور اپنی تیاریوں کو مکمل کرنا ہوگا.

نیپال کا منظر، پاکستان کو خبردار — 105 جھیلیں پگھل چکیں، تباہی کے کنارے کھڑی وادیاں.
21