سعودی میڈیا نے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کو خطے کی سلامتی اور عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا ہے۔
سعودی سرکاری ٹی وی الاخباریہ کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے پیدا ہونے والے دباؤ کو آبنائے باب المندب کی جانب منتقل کرنا چاہتا ہے۔ حوثیوں نے مخا بندرگاہ اور باب المندب کے اطراف میں متعدد مقامات پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ علاقہ عالمی تجارت اور بحری آمدورفت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے اور اس سے قبل سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج کے زیر کنٹرول تھا۔
سعودی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حوثیوں کی پیش قدمی ایران کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے کی دونوں اہم بحری گزرگاہوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔ العربیہ نے بھی ایران کو اس کارروائی کے پس پردہ قرار دیا ہے۔
العربیہ پر گفتگو کرتے ہوئے ایک مہمان نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ماہرین حوثیوں کی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور تہران باب المندب کی جانب حوثیوں کی پیش قدمی کی حمایت کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے حوثیوں کو کارروائی کی ہدایت دینے کے الزام کی تردید کی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی کشیدگی کے معاملے پر سعودی وزیر خارجہ اور پاکستان کے آرمی چیف سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے بھی کیے۔

العربیہ کے مطابق پاکستان نے بھی ایران تک سعودی عرب کا پیغام پہنچایا ہے، جس میں حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
حوثیوں کی بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی، سعودی میڈیا کا ایران پر الزام.
27