ڈرون حملوں کا خطرہ، خیبر پختونخوا پولیس نے یوکرین کی حکمتِ عملی اپنالی.

26

خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کی جانب سے ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کے استعمال میں اضافے کے بعد پولیس نے ان حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک روایتی مگر مؤثر حفاظتی طریقہ اپنایا ہے۔

ضلع خیبر کی بعض پولیس چوکیوں پر اہلکاروں، ریت کی بوریوں اور سیمنٹ بلاکس کے ساتھ مضبوط حفاظتی جال بھی نصب کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ جال ان مقامات پر لگائے گئے ہیں جہاں ڈرون حملوں کا خطرہ زیادہ ہے۔
خیبر پولیس کے مطابق یہ عام مچھلی پکڑنے والے جال نہیں بلکہ مضبوط میٹریل سے تیار کیے گئے ہیں، جنہیں چوکیوں کے اوپر اور سامنے کئی میٹر کی بلندی پر نصب کیا جاتا ہے۔ مقصد ڈرون یا کواڈ کاپٹر کے ذریعے گرائے جانے والے مواد کے براہِ راست اثر کو کم کرنا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر وقار احمد کے مطابق زیادہ خطرے والی چوکیوں پر یہ حفاظتی انتظام کیا گیا ہے تاکہ ممکنہ ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق یہ حکمتِ عملی یوکرین میں روسی ڈرونز کے خلاف استعمال ہونے والے حفاظتی طریقہ کار سے متاثر ہے۔ یوکرین میں بھی حساس علاقوں، سکیورٹی تنصیبات اور بعض رہائشی علاقوں کے اوپر مضبوط جال نصب کیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین میں ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والے مضبوط جال بھی ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس کے بعد یہ طریقہ دیگر علاقوں میں بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں