📌 صوبہ ہزارہ — وقت کی اہم ضرورت اور عوامی خواہشات کی حقیقی ترجمانی (تحریر: شاہ علی فرزند)

25

کسی بھی خطے کی ہمہ جہت ترقی صرف قدرتی وسائل پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس کا انحصار مضبوط انتظامی نظام، شفاف قیادت اور بااختیار عوامی نمائندگی پر ہوتا ہے۔ جب اقتدار کے مراکز عوام کے قریب ہوں تو مسائل کی نشاندہی بھی آسان ہو جاتی ہے اور ان کا حل بھی بروقت ممکن ہو جاتا ہے۔ یہی حقیقت ہمیں اس اہم سوال کی طرف لے جاتی ہے کہ آخر صوبہ ہزارہ کا قیام کیوں ناگزیر ہے؟
ہزارہ ڈویژن قدرتی حسن، قیمتی وسائل اور باشعور افرادی قوت سے مالا مال ہے، مگر بدقسمتی سے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اسے وہ توجہ نہ مل سکی جس کا یہ حق دار تھا۔ فیصلے دور دراز مقامات پر کیے جاتے ہیں، جس کے باعث مقامی مسائل اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں اور بیوروکریسی کی پیچیدگیوں میں دب کر رہ جاتے ہیں۔
نئے صوبے کا قیام محض سیاسی تقسیم نہیں بلکہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا عملی قدم ہے۔ جب حکومت عوام کے قریب ہوگی تو شہریوں کو اپنے مسائل کے حل اور انصاف کے حصول کے لیے طویل سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ اس سے نہ صرف وقت اور وسائل کی بچت ہوگی بلکہ نظام میں شفافیت اور تیزی بھی آئے گی۔
ہزارہ کا خطہ سیاحت، معدنیات، زراعت اور پن بجلی جیسے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ موجودہ مرکزیت کے نظام میں ان وسائل کے فوائد مقامی آبادی تک پوری طرح نہیں پہنچ پا رہے۔ صوبہ ہزارہ کے قیام سے ان وسائل کا بڑا حصہ مقامی ترقی، روزگار کے مواقع اور صنعتی فروغ پر خرچ ہوگا، جس سے نہ صرف یہ خطہ بلکہ پورا ملک مستفید ہوگا۔
ایک الگ صوبہ بننے کی صورت میں ہزارہ تعلیم، صحت اور سماجی ڈھانچے پر خصوصی توجہ دے سکے گا۔ جدید تقاضوں کے مطابق یونیورسٹیوں، ٹیکنیکل اداروں اور معیاری ہسپتالوں کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب فیصلہ سازی کا اختیار مقامی سطح پر موجود ہو۔ جب عوام کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے فیصلے ان کے اپنے نمائندے کر رہے ہیں تو ریاست پر اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔
انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام دنیا بھر میں ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے، جس کا مقصد وفاق کو کمزور کرنا نہیں بلکہ انتظامی اکائیوں کو مضبوط بنانا اور عوام کو زیادہ بااختیار بنانا ہے۔
“صوبہ ہزارہ” کوئی محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ اس خطے کے عوام کے حقوق، ترقی اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ہے۔ اگر ہم ایک مستحکم، متوازن اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو عوام کو ان کے حقوق ان کی دہلیز تک پہنچا سکیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں