🚨 بنوں میں جعلی شناختی کارڈ اسکینڈل بے نقاب — بڑا گروہ گرفتار! 🚨

24

📍 بنوں: پولیس نے ایک منظم اور خطرناک گروہ کو گرفتار کر لیا ہے جو غیر قانونی طور پر افغان شہریوں کے لیے پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے میں ملوث تھا۔ کارروائی کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے سیکیورٹی اداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
🔍 گروہ کا طریقہ واردات:
تحقیقات کے مطابق ملزمان چمن، بلوچستان کے راستے افغان شہریوں کو خفیہ طور پر بنوں منتقل کرتے تھے۔ بعد ازاں انہیں مقامی پاکستانی خاندانوں میں شامل کر کے جعلی ریکارڈ تیار کیا جاتا تھا، جس کی بنیاد پر شناختی کارڈ بنوائے جاتے تھے۔
💰 مالی لین دین کی تفصیل:
جس پاکستانی خاندان میں افغان شہری کو شامل کیا جاتا، اسے تقریباً 2 لاکھ روپے دیے جاتے تھے
جبکہ ہر افغان شہری سے 28 لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے تھے
یہ ایک منظم اور بڑے پیمانے پر چلنے والا نیٹ ورک تھا
🏢 نادرا اہلکاروں کی مبینہ شمولیت:
ابتدائی تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس غیر قانونی کاروبار میں بعض نادرا (NADRA) کے اہلکار بھی شامل تھے، جو اندرونی سہولت کاری فراہم کرتے تھے۔
👮‍♂️ پولیس کارروائی:
بنوں پولیس نے خفیہ اطلاع پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے گروہ کے متعدد اہم ارکان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مزید ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کے دیگر شہروں تک پھیلے ہونے کا بھی امکان ہے۔
⚠️ سیکیورٹی خدشات:
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے جعلی شناختی کارڈز قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد آسانی سے ملک میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔
📢 مزید تحقیقات جاری:
پولیس اور متعلقہ ادارے اس کیس کی گہرائی سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ تمام ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں