خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے صوبائی کابینہ میں توسیع اور رد و بدل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ نئی فہرست سامنے آنے کے بعد ایک اہم سوال اٹھ رہا ہے کہ ضلع مانسہرہ سے کسی بھی نمائندے کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
🏛️ صوبائی وزراء کی فہرست
عاقب اللہ خان — وزیر بلدیات
شکیل خان — وزیر سیاحت
مینا خان آفریدی — وزیر اعلیٰ تعلیم
آفتاب عالم آفریدی — وزیر قانون
ارشد ایوب خان — وزیر مواصلات
فضل حکیم خان — وزیر زراعت
محمد سجاد — وزیر پبلک ہیلتھ
حلیق الرحمان — وزیر آبپاشی
فیصل تراکئی — وزیر محنت
فضل شکور خان — وزیر خوراک
محمد عدنان قادری — وزیر مذہبی امور
فخر جہاں — وزیر ٹرانسپورٹ
👥 وزیراعلیٰ کے مشیر
شفیع جان — مشیر اطلاعات
تیمور سلیم جھگڑا — مشیر صحت
مزمل اسلم — مشیر خزانہ
کامران بنگش — مشیر ٹیکنیکل ایجوکیشن
عرفان سلیم — مشیر کھیل
عائشہ بانو — مشیر تعلیم
🧾 معاونینِ خصوصی برائے وزیراعلیٰ
اختشام خان — معاون خصوصی برائے جنگلات
عبد الکریم خان — معاون خصوصی برائے صنعت
ظاہر شاہ طور — معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات
قاسم علی شاہ — معاون خصوصی برائے دیہی آبادی و محنت
🔍 اہم نکات
کابینہ میں مختلف اضلاع کو نمائندگی دی گئی، مگر مانسہرہ شامل نہیں۔
کئی اہم محکموں جیسے صحت، تعلیم، خزانہ اور قانون کے لیے الگ مشیر مقرر کیے گئے۔
حکومت نے انتظامی بہتری اور کارکردگی بڑھانے کے لیے رد و بدل کو ضروری قرار دیا ہے۔
⚠️ عوامی ردعمل
مانسہرہ کے عوامی و سیاسی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ضلع کو بھی مناسب نمائندگی دی جائے۔
📢 خیبر پختونخوا کابینہ میں توسیع — نئی فہرست جاری، مانسہرہ نظر انداز؟
15