پشاور: وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے ایک اہم اور دور رس اقدام کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں ان اضلاع کے لیے خصوصی طور پر ایک جامع روڈ انفراسٹرکچر پیکج شامل کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف سڑکوں کی بہتری بلکہ جدید سفری سہولیات کی فراہمی بھی ہے۔
اس منصوبے کے تحت قبائلی اضلاع کے لیے ایک علیحدہ اور مربوط روڈ نیٹ ورک اسکیم متعارف کرائی جائے گی، جس میں بین الاضلاعی سڑکوں کی تعمیر و توسیع، خستہ حال شاہراہوں کی مرمت، اور دیہی علاقوں کو مرکزی شاہراہوں سے جوڑنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس اقدام سے دور دراز علاقوں کے عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ذرائع کے مطابق اس پیکج میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بہتر ڈرینیج سسٹم، اور سڑکوں کی دیرپا تعمیر کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی فنڈز بھی مختص کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تعمیراتی منصوبوں میں مقامی لیبر کو ترجیح دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں جاری موٹرویز اور ایکسپریس ویز منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قبائلی اضلاع کو صوبے کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف علاقائی رابطوں میں بہتری آئے گی بلکہ تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے مجموعی طور پر صوبے کی معیشت مستحکم ہوگی۔
📍 پشاور: ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے تاریخی ترقیاتی پیکج کا اعلان.
17