پاکستان میں بجلی کا بحران: پاور ڈویژن کی وضاحت سامنے آ گئی.

19

پاور ڈویژن کے ترجمان نے ملک بھر میں حالیہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور شارٹ فال کے حوالے سے تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے صورتحال کی وضاحت کی ہے۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ رات کے اوقات میں ملک میں بجلی کی پیداوار کو پن بجلی (ہائیڈل پاور) کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث تقریباً 1991 میگاواٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی کمی کے نتیجے میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو معمول سے کچھ زیادہ لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑا۔
بیان میں بتایا گیا کہ گزشتہ رات پیک آورز کے دوران ملک میں مجموعی بجلی کی طلب تقریباً 18000 میگاواٹ تک پہنچ گئی تھی، جبکہ اس وقت شارٹ فال تقریباً 4500 میگاواٹ رہا، جس کی وجہ سے مخصوص علاقوں میں عارضی لوڈشیڈنگ کی گئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق پن بجلی کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجہ ڈیموں سے پانی کے اخراج میں کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت صوبوں کی جانب سے پانی کی طلب نسبتاً کم ہے، جس کے باعث انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی جانب سے ڈیموں سے پانی کا اخراج بھی کم ہو گیا ہے۔ اس کمی کی ایک وجہ حالیہ بارشوں اور زرعی فصلوں کی کٹائی کا سیزن بھی بتایا گیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ آئندہ چند دنوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافہ متوقع ہے، جس سے پن بجلی کی پیداوار بہتر ہونے اور لوڈشیڈنگ میں کمی آنے کی امید ہے۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ لوڈشیڈنگ کا زیادہ تر اثر صرف رات کے پیک اوقات میں دیکھا گیا، جبکہ دن کے وقت بجلی کی صورتحال نسبتاً مستحکم رہی۔ اس کے علاوہ آر ایل این جی (RLNG) کی دستیابی بہتر ہونے سے بھی مجموعی صورتحال میں بہتری متوقع ہے۔
آخر میں پاور ڈویژن نے غیر معمولی لوڈ مینجمنٹ پر صارفین سے معذرت کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رات کے اوقات میں بجلی کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں اور توانائی کی بچت کو یقینی بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں