حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گزشتہ روز گیس کی مین پائپ لائن پھٹنے سے خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس نے قریبی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس افسوسناک واقعے میں ایک ہی گھر کے 7 افراد جاں بحق ہو گئے، جس سے پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ ہر آنکھ اشکبار اور فضا سوگوار ہے۔
اسی متاثرہ خاندان کا نوجوان احمد، جو اپنے اہل خانہ کی مدد کے لیے سرگرم تھا، مبینہ طور پر تھانہ حطار پولیس کی حراست میں لے لیا گیا۔ اہلِ علاقہ کے مطابق حوالدار یوسف اور دیگر پولیس اہلکاروں نے اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق:
احمد اس وقت شدید زخمی حالت میں ہے
کھانسی کے ساتھ خون آ رہا ہے
ناک کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے
سر پر گہرے زخم اور ٹانکے لگے ہیں
وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے سے بھی قاصر ہے
یہ واقعہ نہ صرف انسانیت بلکہ قانون کی عملداری پر بھی سنگین سوالیہ نشان ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف خاندان پر قیامت ٹوٹی، دوسری طرف انصاف دینے والے ہی ظلم پر اتر آئے۔
اہلِ علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ:
واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں
ملوث اہلکاروں کو فوری گرفتار کیا جائے
متاثرہ نوجوان اور اس کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے
📢 ڈی پی او ہری پور کا فوری نوٹس
واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او ہری پور نے مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور ذمہ داروں کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ وردی کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے—اور جب یہ ذمہ داری پامال ہو، تو اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔
🚨 ظلم کی انتہا: حطار میں سانحہ، متاثرہ نوجوان پر پولیس تشدد — ڈی پی او کا ایکشن 🚨
10