پشاور: پشاور ہائیکورٹ میں سی این جی کی بندش کے خلاف دائر درخواست پر اہم سماعت ہوئی، جس کی سربراہی جسٹس اعجاز انور نے کی۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سی این جی اسٹیشنز کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بند کیا جاتا ہے، جس کے باعث شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور روزمرہ سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس عمل کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے کر متعلقہ حکام کو پابند کیا جائے کہ وہ بندش سے قبل عوام کو بروقت آگاہ کریں۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کے معاملات میں مناسب فورم سے رجوع کرنا چاہیے اور ہر مسئلہ براہ راست عدالت میں لانا ضروری نہیں۔ دورانِ سماعت جسٹس اعجاز انور نے وکیل کے طرزِ عمل پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔
جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ وکیل کی جانب سے سوشل میڈیا پر لوگوں کو عدالت میں شرکت کی دعوت دینا نامناسب ہے۔ انہوں نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “یہ عدالت ہے، کوئی سیاسی جلسہ گاہ نہیں جہاں مجمع اکٹھا کیا جائے۔” مزید کہا کہ وکلاء کو پیشہ ورانہ ڈسپلن کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور سوشل میڈیا پر شہرت یا لائکس کے حصول کے بجائے قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی کارروائی کا تقدس برقرار رکھنا تمام فریقین کی ذمہ داری ہے اور اس میں کسی قسم کی غیر سنجیدگی برداشت نہیں کی جائے گی۔
پشاور ہائیکورٹ: سی این جی بندش کے خلاف درخواست خارج، وکیل پر عدالت کی برہمی.
12