⚖️ پشاور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: معمولی جرائم کو پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ میں شامل نہ کرنے کا حکم ⚖️

17

پشاور ہائیکورٹ نے ایک اہم اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے پولیس حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ معمولی نوعیت کے جرائم کو پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ کا حصہ نہ بنایا جائے۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ قانون کا مقصد کسی شہری کو ہمیشہ کے لیے بدنام کرنا نہیں بلکہ اسے اصلاح کا موقع دے کر معاشرے کا ایک مفید فرد بنانا ہے۔ بینچ نے کہا کہ اگر کسی شخص کو معمولی سزا یا برائے نام جرمانہ ہوا ہو تو اسے اس کے مستقبل، خاص طور پر روزگار اور بیرونِ ملک مواقع پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔
عدالت نے آئین پاکستان کی روشنی میں قرار دیا کہ کسی شہری کو ایک معمولی معاملے کی بنیاد پر مستقل بدنامی کا نشان دینا بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاستی اداروں کو شہریوں کے وقار اور مستقبل کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ درخواست گزار محمد رقیب کو ایسا پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے جس میں ماضی کے معمولی جرم کا کوئی ذکر نہ ہو۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے بلکہ اس سے ہزاروں افراد کو فائدہ پہنچے گا جو معمولی نوعیت کے مقدمات کی وجہ سے اپنے کیریئر اور بیرونِ ملک مواقع سے محروم ہو جاتے ہیں۔
یہ فیصلہ شہریوں کے بنیادی حقوق، عزتِ نفس اور بہتر مستقبل کے تحفظ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں