ایبٹ آباد کے علاقے مانگل میں قیمتی جنگلاتی لکڑی کی بڑے پیمانے پر مبینہ سمگلنگ کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جس پر مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
📌 معاملے کی تفصیل
ذرائع کے مطابق مانگل کے مختلف علاقوں میں عرصہ دراز سے قیمتی درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لاکھوں روپے مالیت کی لکڑی خفیہ طور پر مختلف مقامات پر منتقل کی جا رہی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی۔
📌 جزوی کارروائی، بڑے عناصر محفوظ؟
اطلاعات کے مطابق محکمہ جنگلات نے حالیہ کارروائی کے دوران ہزارہ موٹروے پر چند مشکوک گاڑیوں کو پکڑا، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اصل بڑے کردار اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر سمگل شدہ لکڑی بعض افراد نے اپنے گھروں اور خفیہ گوداموں میں ذخیرہ کر رکھی ہے، جس کے خلاف تاحال کوئی بڑی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
📌 ماحولیاتی خطرات
ماہرین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے نہ صرف قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ لینڈ سلائیڈنگ، موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب جیسے خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
📌 عوامی مطالبات
اہلیانِ مانگل نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ جنگلات سے مطالبہ کیا ہے کہ:
بڑے عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے
غیر قانونی کٹائی میں ملوث نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جائے
جنگلات کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے
مقامی سطح پر نگرانی کا نظام مضبوط بنایا جائے
📌 حکام سے اپیل
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ علاقے کے قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
🚨 ایبٹ آباد: مانگل میں قیمتی لکڑی کی مبینہ سمگلنگ، فوری کارروائی کا مطالبہ.
40