خاص رپورٹ: اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ مسلسل امریکی فضائی حملوں کے باوجود ایران کس طرح امریکی فوجی تنصیبات اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹس کے مطابق 17 جون کو ہونے والے حملوں کے بعد یکم مارچ کے بعد پہلی بار امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی حملوں میں امریکی اہلکار ہلاک ہوئے، جسے دفاعی ماہرین واشنگٹن کے لیے تشویش ناک پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) کے مطابق مسلسل فضائی کارروائیوں کے باوجود ایران اب بھی اتنی عسکری صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ طویل عرصے تک غیر روایتی جنگ جاری رکھ سکے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے حملے وقت کے ساتھ زیادہ مؤثر اور درست ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق ایران کو روس اور چین سے انٹیلی جنس معاونت بھی حاصل ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
برطانوی جامعہ کے سینئر لیکچرر آندریاس کریگ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کا محلِ وقوع ایران کے جدید میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہے، جس کے باعث امریکی فوجی تنصیبات مسلسل خطرات سے دوچار رہتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی ایسے مستقل اڈوں پر تعینات ہیں جہاں میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ موجود رہتا ہے، جبکہ متعدد اہلکار ایسے نیم مستقل ڈھانچوں میں رہتے ہیں جو جدید میزائل حملوں سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتے۔
ماہرین کے مطابق اگر میزائل اپنے ہدف سے کچھ فاصلے پر بھی گرے تو دھماکے کی شدید لہریں جانی نقصان اور دماغی چوٹوں کا سبب بن سکتی ہیں، جبکہ فضا میں تباہ کیے گئے میزائلوں کا ملبہ بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 18 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جبکہ تقریباً 500 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی دوران متعدد فوجی تنصیبات، عمارتوں اور عسکری آلات کو بھی نقصان پہنچنے یا تباہ ہونے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
طویل جنگ کے باوجود ایران امریکی فوجیوں کو کیسے نشانہ بنا رہا ہے؟ دفاعی ماہرین نے اہم عوامل بیان کر دیے.
21