مانسہرہ: مانسہرہ میں عوام کو کم کرایہ پر سفری سہولت فراہم کرنے والی سولر شٹل بس کے بانی عارف انقلابی پر بیدڑہ چوک میں مبینہ حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ چھری کے وار سے زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق زخمی عارف انقلابی کو فوری طور پر کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
تھانہ سٹی میں درج درخواست کے مطابق لاری اڈہ سے غازیکوٹ روٹ پر چلنے والی سوزوکی یونین سے تعلق رکھنے والے رستم سمیت 12 افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے سستی سفری سہولت فراہم کرنے پر حملہ کرتے ہوئے انہیں جان سے مارنے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق واقعہ شام تقریباً 5:30 بجے بیدڑہ چوک میں پیش آیا، جس کے بعد مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔
ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عارف انقلابی نے الزام عائد کیا کہ یہ حملہ ٹرانسپورٹ مافیا کی کارستانی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یکم اگست سے مزید 10 سولر شٹل بسیں سڑکوں پر لائی جائیں گی اور موجودہ 30 روپے کرایہ کم کرکے 20 روپے کر دیا جائے گا۔
عارف انقلابی کا کہنا تھا:
“ٹرانسپورٹ مافیا کے سامنے جھکنے والا نہیں ہوں۔ اب کرایہ مزید کم کرکے 20 روپے کروں گا۔ میرا مقابلہ سیدھا مافیا سے ہے اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔”
واقعے کے بعد مانسہرہ کے شہریوں اور مختلف سماجی حلقوں نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کی فوری گرفتاری اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
🚨 بریکنگ نیوز | مانسہرہ میں سولر شٹل بس کے بانی عارف انقلابی پر حملہ، چھری کے وار سے زخمی، 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج.
15