بلاول بھٹو کا ن لیگ پر تنقید، انتخابی دھاندلی کے الزامات دہرا دیے.

15

مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کا پہلا وزیراعلیٰ پنجاب انتخابی دھاندلی کے ذریعے بنا، جبکہ وزیراعظم بھی آر اوز کے ذریعے ہونے والے انتخابات کی پیداوار ہیں۔
مظفرآباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ لوگ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آتے ہیں اور نسل در نسل اسی سیاست کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں کسی بھی قسم کی مبینہ دھاندلی برداشت نہیں کرے گی اور 2 اگست کے انتخابات میں “تیر” کی کامیابی یقینی ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ تین نسلوں سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرتی آ رہی ہے اور مظفرآباد کے عوام ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ چوہدری یاسین کی آبائی نشست پر 30 پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کر کے جعلی ووٹ ڈالے گئے۔ ان کے بقول، ان کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں، اسی لیے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ سیاسی شکست قبول کر سکتے ہیں، لیکن مبینہ انتخابی دھاندلی کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ ہر مبینہ طور پر چھینی گئی نشست واپس حاصل کی جائے گی۔
بلاول بھٹو نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کمیشن قائم کیا جانا چاہیے اور احتجاج کرنے والوں کو کمیشن کی رپورٹ آنے تک انتظار کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں