سوات کے المناک حملے میں شہید ہونے والے نوجوانوں میں شامل ایک بیٹے کے موبائل فون پر حملے کے بعد بھی اس کی والدہ کی مسلسل کالز آتی رہیں، مگر دوسری جانب ہمیشہ کی خاموشی تھی۔
ماں اپنے لختِ جگر کی خیریت جاننے کے لیے بار بار فون کرتی رہیں، لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ ان کا پیارا بیٹا حملے میں شہید ہو چکا ہے۔ فون کی گھنٹی بجتی رہی، مگر جواب دینے والا ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا تھا۔
یہ دلخراش منظر صرف ایک خاندان کے غم کی داستان نہیں بلکہ سانحۂ سوات کے اس انسانی المیے کی عکاسی کرتا ہے، جس نے کئی خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیے اور بے شمار گھروں کو سوگوار کر دیا۔
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے اور زخمیوں کو جلد مکمل صحت یابی نصیب فرمائے۔ آمین۔