لاہور کے علاقے غازی آباد میں ایک پولیس اہلکار کے خلاف خاتون سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے نامزد ملزم، اے ایس آئی عمران انور، کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ متاثرہ خاتون کی درخواست پر پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ 2 اگست کی رات وہ اپنے گھر کے باہر موجود تھیں، جہاں سول کپڑوں میں ملبوس ایک شخص، جس کی بعد میں شناخت اے ایس آئی عمران انور کے نام سے ہوئی، مبینہ طور پر انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گیا۔
درخواست کے مطابق ملزم انہیں غازی آباد کے علاقے میں واقع ایک قبرستان کے قریب لے گیا، جہاں ان کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزم انہیں وہیں چھوڑ کر فرار ہوگیا، جس کے بعد انہوں نے اہل خانہ کو آگاہ کیا اور قانونی کارروائی کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی گرفتاری اور مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کیے۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ناقص نگرانی پر تھانہ غازی آباد کے انچارج انویسٹی گیشن کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات متاثرہ خاتون کے بیان، فرانزک شواہد اور دیگر دستیاب ثبوتوں کی روشنی میں جاری ہیں۔ مقدمے میں عائد الزامات تاحال عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔
لاہور: پولیس اہلکار کے خلاف خاتون سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ، اے ایس آئی گرفتار
35