“جو قوتیں آپ کے مجموعی پیداواری وسائل پر قابض ہیں، وہی قوتیں آپ کے دماغ اور زبان پر بھی قابض رہیں گی”

30

— کارل مارکس
شمالی وزیرستان: وسائل کی لوٹ مار اور عوام کی بھوک
وسائل سے مالا مال، عوام سے محروم
شمالی وزیرستان، جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، آج ایک المناک حقیقت کا شکار ہے۔ یہاں کے لوگ بھوک اور افلاس کا شکار ہیں، جبکہ وسائل پر غیر قانونی قبضے اور لوٹ مار جاری ہے۔
کارل مارکس کا قول اور موجودہ صورتِ حال
کارل مارکس کا یہ تاریخی قول آج کے شمالی وزیرستان پر پورا اترتا ہے:
“جو قوتیں آپ کے مجموعی پیداواری وسائل پر قابض ہیں، وہی قوتیں آپ کے دماغ اور زبان پر بھی قابض رہیں گی۔”
یعنی جب تک وسائل پر ظالم اور جاگیردارانہ نظام قابض رہے گا، عوام کی سوچ، آواز، اور فیصلے بھی اسی نظام کی گرفت میں رہیں گے۔
شمالی وزیرستان کی موجودہ حالت
· قدرتی وسائل: معدنیات، زمین، پانی اور دیگر وسائل کی فراوانی
· عوام کی حالت: بے روزگاری، بھوک، صحت اور تعلیم کی کمی
· وجہ: وسائل کا مرکزی اور غیر مقامی قوتوں کے ہاتھوں استحصال
· نتیجہ: مقامی عوام محروم، باہر کے لوگ امیر
حقیقت کا آئینہ
شمالی وزیرستان کے لوگ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ سڑکیں، اسپتال، تعلیمی ادارے اور پینے کے پانی کی کمی جبکہ دوسری طرف وسائل کی کھلے عام لوٹ مار ہو رہی ہے۔
آواز اٹھانے کی ضرورت
مارکس کا یہ فلسفہ ہمیں بتاتا ہے کہ وسائل پر قبضہ صرف معاشی غلامی نہیں، بلکہ فکری اور لسانی غلامی بھی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ:
· وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے آواز اٹھائی جائے
· مقامی عوام کو ان کے حقوق دلائے جائیں
· غیر منصفانہ نظام کے خلاف سوچ اور عمل میں انقلاب برپا کیا جائے
نتیجہ
شمالی وزیرستان کا المیہ صرف وسائل کی لوٹ نہیں، بلکہ عوام کی سوچ اور آواز کو بھی اسی نظام نے جکڑ رکھا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس نظام کے خلاف آواز بلند کی جائے اور وسائل پر عوام کا حقیقی قبضہ یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں