ایبٹ آباد (ویب ڈیسک) – ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (HAZECO) میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف ایک درخواست گزار نے پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بنچ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔
درخواست گزار نصیر خان جدون نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمپنی میں ہزارہ کے نوجوانوں کو بھرتیوں میں میرٹ کی بنیاد پر مواقع فراہم کیے جائیں اور واپڈا ملازمین کے بچوں کے لیے مخصوص کوٹے کو بھی یقینی بنایا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکیداری سسٹم کے تحت مبینہ خفیہ بھرتیوں اور مک مکا کے طریقہ کار کو کسی صورت منظور نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ہزارہ کے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی HAZECO میں 118 سے زائد افراد کی مبینہ بھرتیوں پر سوالات اٹھائے تھے، جن میں 17 سے 20 گریڈ کے افسران کی تعیناتی بھی شامل ہے ۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کمپنی میں مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے بجائے باہر سے افسران لائے گئے ہیں ۔
خیال رہے کہ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین نے اس حوالے سے عدالتی رجوع کیا تھا اور عدالت نے اسٹے آرڈر جاری کرتے ہوئے معاملے کی سماعت کی تاریخ 6 اپریل 2026 مقرر کی تھی ۔
نصیر خان جدون کا کہنا ہے کہ ہزارہ کے نوجوانوں کے حقِ روزگار کا تحفظ کرتے ہوئے تمام بھرتیاں شفاف اور میرٹ پر کی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سکیل 1 سے 15 تک کی بھرتیاں مقامی بنیادوں پر کی جائیں اور ٹھیکیداری سسٹم کے ذریعے کم درجے کی پوسٹوں پر بھرتیوں کو ختم کیا جائے ۔
ایبٹ آباد: ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع.
31