لکی مروت میں ایف سی اہلکار کے اغوا پر فوج کی موجودگی کا سوال.

24

لکی مروت – علاقے میں سیکیورٹی کے حوالے سے ایک متنازعہ صورتحال سامنے آئی ہے، جہاں دہشتگردوں کی طرف سے ایف سی اہلکار کے اغوا کے بعد فوج کی موجودگی اور کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
واقعے کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق، جب دہشتگردوں نے ایف سی کے اہلکار کو اغوا کیا تو مقامی پولیس امن کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس موقع پر فوجی اہلکار موجود نہیں تھے۔ تاہم بعد ازاں جب فوج نے اس معاملے میں مداخلت کی تو پولیس امن کمیٹی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فوج کو واپس جانے کا کہا۔
امن کمیٹی کا موقف
لکی پولیس امن کمیٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بار بار فوج کو سمجھایا تھا کہ ان کے درمیان مداخلت نہ کی جائے۔ کمیٹی کا موقف ہے کہ جب فوج کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور ڈرون جیسی سہولیات موجود ہیں، پھر بھی جوان اغوا ہو جاتے ہیں تو اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔
ان کا سوال ہے:
“آپ کے پاس ڈرون ہے، ٹیکنالوجی ہے، ہر چیز ہے۔ پھر بھی ہمارے جوان اغوا ہو جاتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں کیوں؟”
کمیٹی کا مطالبہ
پولیس امن کمیٹی نے مغوی ایف سی اہلکار کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ علاقے میں امن چاہتے ہیں اور اپنے گھروں میں سکون سے رہنا چاہتے ہیں۔
سیکیورٹی اداروں کے درمیان کشیدگی
اس واقعے کے بعد لکی مروت اور بنوں سمیت دیگر علاقوں میں پولیس اور فوج کے کردار پر بحث جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق پولیس نے بعض علاقوں میں فوجی اہلکاروں کی موجودگی پر اعتراض کیا ہے اور سیکیورٹی کی ذمہ داریوں اور رابطہ کاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں