مانسہرہ میں پیش آنے والے نوجوان علی جدون کے قتل کے افسوسناک واقعے نے علاقے بھر میں گہری تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت مقتول کے بھائی کی مدعیت میں نامزد ملزم ملک جہانگیر کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ علی جدون کو ملزم اور اس کے چند نامعلوم ساتھی مبینہ طور پر گھر سے بلا کر ساتھ لے گئے، جس کے بعد وہ پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد ان کی لاش تھانہ جھاری کس کی حدود سے برآمد ہوئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق لاش پر تشدد کے نشانات پائے گئے، تاہم حتمی حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک تجزیے کے بعد واضح ہوں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمے میں نامزد ملزم اس وقت عدالت سے عبوری ضمانت پر ہے، جبکہ تفتیشی ٹیم ممکنہ شواہد، گواہوں کے بیانات اور موبائل ڈیٹا سمیت دیگر پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔
اہلیانِ علاقہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ مقامی عمائدین اور سماجی شخصیات نے بھی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
مقتول کے ورثاء نے ضلعی پولیس اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور اگر کوئی فرد جرم کا مرتکب پایا جائے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
⚖️ حکام کے مطابق تفتیش جاری ہے اور آئندہ دنوں میں مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے۔
📌 ذرائع:
• مقامی ذرائع
• پولیس ذرائع


⚠️ نوٹ: یہ خبر دستیاب معلومات اور متعلقہ فریقین کے بیانات پر مبنی ہے۔ حتمی حقائق عدالتی اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔