ایبٹ آباد ہری پور بائی پاس پر واقع قیمتی اراضی کی فروخت کے معاملے میں دو کروڑ 45 لاکھ روپے کے مبینہ جعلی چیک کیس میں اہم عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ Peshawar High Court نے ملزم اظہر خان کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
مدعی مقدمہ عمیر رؤف ولد عبدالرؤف سکنہ جھنگی قاضیاں نے تھانہ میرپور میں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی ملکیتی زمین ملزم اظہر خان ولد سرور خان، ساکن ڈھوڈیال نواں شہر ایبٹ آباد کو دو کروڑ 80 لاکھ روپے میں فروخت کی۔ مدعی کے مطابق ملزم نے معاہدے کے وقت صرف 35 لاکھ روپے نقد ادا کیے جبکہ بقایا رقم دو کروڑ 45 لاکھ روپے کی ادائیگی کے لیے چیک دیا اور زمین کا انتقال بھی اپنے نام کروا لیا۔
مدعی کا کہنا ہے کہ جب مقررہ تاریخ پر چیک بینک میں پیش کیا گیا تو وہ ڈس آنر ہو گیا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق چیک 03 جون 2025ء کو کیش کرانے کے لیے پیش کیا گیا جبکہ مقدمہ کا اندراج 02 دسمبر 2025ء کو عمل میں لایا گیا۔ مدعی نے الزام عائد کیا کہ ملزم نے دانستہ طور پر رقم کی ادائیگی سے گریز کیا اور مختلف حیلوں بہانوں سے معاملہ ٹالتا رہا، جس کے باعث اسے بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
پولیس نے درخواست کی روشنی میں کارروائی کرتے ہوئے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 489-F (چیک ڈس آنر ہونے سے متعلق جرم) کے تحت مقدمہ درج کیا اور ملزم اظہر خان کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا۔
بعد ازاں ملزم نے پہلے جوڈیشل مجسٹریٹ اور پھر ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں درخواستِ ضمانت دائر کی، تاہم دونوں عدالتوں نے درخواستیں مسترد کر دیں۔ بعد میں معروف کریمنل لائر ملک مجاہد اعوان ایڈوکیٹ کے توسط سے پشاور ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی۔
عدالت عالیہ کے جسٹس عبدالفیاض پر مشتمل سنگل بینچ نے فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے مقررہ مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ 489-F کے تحت درج مقدمات میں ضمانت کا انحصار کیس کے حقائق، ادائیگی کے شواہد اور بدنیتی کے عنصر پر ہوتا ہے، جسے عدالت ہر مقدمے میں الگ سے پرکھتی ہے۔
ایبٹ آباد: جعلی چیک کیس میں اہم پیش رفت، پشاور ہائیکورٹ نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا.
28