ایبٹ آباد: سستی اور معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے، ایم ایم راشد اعوان کا مطالبہ.

16

ایبٹ آباد کے سابق امیدوار قومی اسمبلی ایم ایم راشد اعوان نے کہا ہے کہ سستی، صاف اور معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور انتظامیہ کو بلیک میل کرنے یا دباؤ میں لانے والے عناصر کو اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے مہنگائی میں اضافہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تاحال شہر کا کوئی بھی قصائی سرکاری نرخ نامے کے مطابق ہڈی والا گوشت فروخت نہیں کر رہا، جبکہ مارکیٹ میں گوشت 1400 روپے فی کلو یا اس سے زائد قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، جو ضلعی انتظامیہ کے مقررہ نرخوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا سوال تھا کہ اگر رمضان میں اشیائے ضروریہ سستی نہیں کی جا سکتیں تو کم از کم ان کی قیمتیں مستحکم کیوں نہیں رکھی جاتیں؟ کیا رمضان آتے ہی مرغی اور مویشی خود بخود مہنگے ہو جاتے ہیں، یا یہ مصنوعی مہنگائی مخصوص مافیا کی پیدا کردہ ہے؟
ایم ایم راشد اعوان نے کہا کہ شہر میں ایک عجیب تماشا لگا ہوا ہے، کبھی دکانیں سیل کی جاتی ہیں اور پھر کچھ ہی عرصے بعد ڈی سیل کر دی جاتی ہیں، جس سے انتظامی عملداری پر سوالات جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی اسسٹنٹ کمشنر یا سرکاری افسر کی جانب سے کسی شہری یا تاجر کے ساتھ بدتمیزی کی شکایت سامنے آتی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، لیکن کسی ایک واقعے کی بنیاد پر پورے نظام کو مفلوج کرنا دانشمندی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ عوام نے ڈپٹی کمشنر کو خود چوکوں، بازاروں اور سبزی منڈیوں میں جا کر نگرانی کرتے دیکھا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ انتظامیہ عملی اقدامات کر رہی ہے۔ تاہم بعض بااثر مافیا عناصر انہیں مؤثر کارروائی سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو شہر اور عوام دونوں کے مفاد کے خلاف ہے۔
سابق امیدوار قومی اسمبلی نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مفادات کے خلاف مزید حماقت یا رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو وہ عوامی کال دینے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر یہ شہر اپنے بچوں کو کیمیکل ملا دودھ اور ناقص اشیائے خوردونوش کیوں کھلائے؟ 35 سال بعد سبزی منڈی کے نظام پر ہاتھ ڈالا گیا ہے، لیکن بدقسمتی سے شہر اب بھی آڑھتی مافیا کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ کی کارروائیاں صرف سبزی، پھل اور دودھ تک محدود نہ رہیں بلکہ لیبارٹریوں، نجی کلینکس، میڈیکل اسٹورز، بیکریوں اور دیگر کاروباری شعبوں تک بھی پھیلائی جائیں۔ اشیائے خورونوش کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ، قیمتوں کی روزانہ نگرانی، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف اور سہولت فراہم کی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں