لاہور: ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد ملک میں پیٹرول کی قیمت بڑھ کر 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان میں بھی حکومت کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کرنا پڑا۔
پاکستانی کرنسی کے مطابق اگر خطے کے مختلف ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو سعودی عرب میں پیٹرول تقریباً 172 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات میں اس کی قیمت تقریباً 186 روپے فی لیٹر ہے۔ قطر میں پیٹرول 144 روپے فی لیٹر دستیاب ہے جبکہ عمان اور بحرین میں بھی پیٹرول کی قیمت تقریباً 172 روپے فی لیٹر کے قریب ہے۔
اسی طرح امریکا میں پیٹرول کی قیمت پاکستانی کرنسی میں تقریباً 247 روپے فی لیٹر بنتی ہے جبکہ بھارت اور چین میں یہ قیمت تقریباً 305 روپے فی لیٹر کے قریب ہے۔ دنیا میں سب سے سستا پیٹرول لیبیا اور ایران میں فروخت ہو رہا ہے جہاں اس کی قیمت تقریباً ساڑھے 5 روپے فی لیٹر کے برابر بتائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ہانگ کانگ دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں پیٹرول کی قیمت سب سے زیادہ یعنی تقریباً 1077 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے حالیہ صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55، 55 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کا باضابطہ اعلان وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی حالات، تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث حکومت کو یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کی شرح مزید بڑھ سکتی ہے جس کے اثرات ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔
حکومت کی جانب سے عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے مختلف معاشی اقدامات اور ریلیف پیکجز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم موجودہ عالمی صورتحال کے باعث فوری طور پر قیمتوں میں کمی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات: پاکستان میں پیٹرول 321 روپے فی لیٹر، خطے کے مہنگے ترین ممالک میں شامل.
20