⚡ ایبٹ آباد میں پراسرار واقعہ — نامعلوم شخص کرنٹ لگنے سے جاں بحق

20

📍 ایبٹ آباد (نواں شہر): (مانسہرہ_ڈاٹ_کام)
نواں شہر کے علاقے میرا مدروچھ روڈ پر شمع پبلک اسکول کے قریب ایک انتہائی افسوسناک اور پراسرار واقعہ پیش آیا، جہاں ایک نامعلوم شخص گھر میں داخل ہونے کے بعد چھت پر چڑھ گیا اور ہائی وولٹیج بجلی کی مین تاروں سے ٹکرا کر شدید کرنٹ لگنے کے باعث موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔
🚨 واقعے کی تفصیل:
عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم شخص اچانک ایک رہائشی گھر میں داخل ہوا اور کسی کو کچھ سمجھے بغیر سیدھا چھت کی جانب چلا گیا۔ چھت پر موجود ننگی یا کم حفاظتی بجلی کی تاروں کے قریب جانے پر وہ توازن کھو بیٹھا اور براہِ راست کرنٹ کی زد میں آ گیا، جس سے اس کا جسم بری طرح جھلس گیا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
🚑 ریسکیو اور پولیس کی کارروائی:
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 ایبٹ آباد کی میڈیکل ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور ابتدائی طبی امداد کی کوشش کی، تاہم شخص جانبر نہ ہو سکا۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور قانونی کارروائی شروع کر دی۔
🏥 نعش کی منتقلی:
جاں بحق شخص کی نعش کو ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد منتقل کر دیا گیا، جہاں پوسٹ مارٹم اور شناخت کے عمل کو جاری رکھا گیا ہے۔
❗ اہم نکات:
• واقعہ نواں شہر میرا مدروچھ روڈ پر پیش آیا
• نامعلوم شخص گھر میں داخل ہو کر چھت پر چڑھا
• ہائی وولٹیج تاروں سے ٹکرانے سے کرنٹ لگا
• ریسکیو 1122 اور پولیس نے فوری کارروائی کی
• نعش ایوب میڈیکل کمپلیکس منتقل
• تاحال شناخت نہ ہو سکی
• مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری
🗣️ سرکاری مؤقف:
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق:
“اطلاع ملنے پر ہماری ٹیم فوری جائے حادثہ پر پہنچی، ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد نعش کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ابتدائی طور پر متوفی کی شناخت نہیں ہو سکی، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔”
⚠️ حفاظتی پیغام:
ماہرین کے مطابق کھلی یا غیر محفوظ بجلی کی تاریں انتہائی خطرناک ہوتی ہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ ایسی جگہوں سے دور رہیں اور بجلی کے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو بروقت اطلاع دیں۔
📚 ذرائع:
• ریسکیو 1122 ایبٹ آباد
• مقامی پولیس
• ضلعی انتظامیہ
• عینی شاہدین و مقامی صحافی
⚠️ Disclaimer:
یہ خبر عوامی مفاد میں مستند ذرائع سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد صرف آگاہی فراہم کرنا ہے، کسی بھی قسم کی توثیق یا رائے کی نمائندگی نہیں کرتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں