مانسہرہ ڈاٹ کام مانسہرہ ڈاٹ کام
9 جمادی الاول 1448 ہجری · بدھ، 21 اکتوبر 2026
آج کی حدیث
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگی میں نرمی، محبت اور حسنِ اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲🤍
اپنی خبر بھیجیں
تازہ ترین
.مانسہرہ: ماڈل کریمنل کورٹ کا اہم فیصلہ، قتل کے ملزم عیسیٰ خان افغانی کو عمر قید کی سزا • این سی سی آئی اے کا انتباہ: جعلی اکاؤنٹس، نجی تصاویر شیئر کرنے، آن لائن بلیک میلنگ اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ • ہزارہ کے صحافی محمد زبیر خان کی بی بی سی تحقیقاتی فلم عالمی سونی امپیکٹ ایوارڈ کے فائنلسٹوں میں شامل • ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچلنے کا مقدمہ، مرکزی ملزم بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک • مانسہرہ کا مبینہ نوسرباز اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک، 87 لاکھ روپے کے فراڈ کیس میں اہم پیش رفت • مانسہرہ میں صفائی اور تجاوزات کے خلاف آپریشن دوسرے روز بھی جاری، لاری اڈہ کے نالے تجاوزات سے پاک • وزارتِ مواصلات میں 222 ارب 6 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، آڈٹ رپورٹ میں بھرتیوں سمیت متعدد معاملات پر سوالات • پشاور: نیب نے صحت کارڈ پلس کے سابق سی ای او ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو 29 اکتوبر کو طلب کر لیا • .مانسہرہ: ماڈل کریمنل کورٹ کا اہم فیصلہ، قتل کے ملزم عیسیٰ خان افغانی کو عمر قید کی سزا • این سی سی آئی اے کا انتباہ: جعلی اکاؤنٹس، نجی تصاویر شیئر کرنے، آن لائن بلیک میلنگ اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ • ہزارہ کے صحافی محمد زبیر خان کی بی بی سی تحقیقاتی فلم عالمی سونی امپیکٹ ایوارڈ کے فائنلسٹوں میں شامل • ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچلنے کا مقدمہ، مرکزی ملزم بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک • مانسہرہ کا مبینہ نوسرباز اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک، 87 لاکھ روپے کے فراڈ کیس میں اہم پیش رفت • مانسہرہ میں صفائی اور تجاوزات کے خلاف آپریشن دوسرے روز بھی جاری، لاری اڈہ کے نالے تجاوزات سے پاک • وزارتِ مواصلات میں 222 ارب 6 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، آڈٹ رپورٹ میں بھرتیوں سمیت متعدد معاملات پر سوالات • پشاور: نیب نے صحت کارڈ پلس کے سابق سی ای او ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو 29 اکتوبر کو طلب کر لیا •
بریکنگ نیوز

این سی سی آئی اے کا انتباہ: جعلی اکاؤنٹس، نجی تصاویر شیئر کرنے، آن لائن بلیک میلنگ اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

21-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 25 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ خواتین کے نام سے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانا، ان کی نجی تصاویر یا ذاتی معلومات اجازت کے بغیر شیئر کرنا اور انہیں آن لائن بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔
ایجنسی کے بیان کے مطابق شہریوں کو ایسے سائبر جرائم کی اطلاع متعلقہ حکام کو دینی چاہیے اور تحقیقات میں مدد کے لیے دستیاب شواہد فراہم کرنے چاہییں۔
فیس بک پیجز کے ذریعے کردار کشی اور بدنامی پر بھی کارروائی ہونی چاہیے
سوشل میڈیا پر بعض ایسے پیجز اور جعلی اکاؤنٹس کے استعمال پر بھی تشویش پائی جاتی ہے جن کے ذریعے مبینہ طور پر شہریوں کی عزت، شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ بعض اوقات افراد کی تصاویر، نام اور ذاتی معلومات استعمال کرکے ان کے خلاف غیر مصدقہ الزامات پھیلائے جاتے ہیں یا انہیں عوامی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ایسے فیس بک پیجز، جعلی اکاؤنٹس اور ان کے پیچھے موجود افراد کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔ اگر کسی اکاؤنٹ یا پیج کے ذریعے جھوٹی معلومات پھیلانے، ہراساں کرنے، نجی معلومات افشا کرنے، دھمکیاں دینے یا بلیک میلنگ کے شواہد ملیں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
آزادیٔ اظہار کی آڑ میں کسی کی عزت اچھالنا قابلِ قبول نہیں
سوشل میڈیا پر اختلافِ رائے اور تنقید ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس حق کو کسی دوسرے شخص کی کردار کشی، ہراسانی یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی سرکاری افسر، سرکاری ملازم، تاجر، صحافی یا عام شہری کے خلاف الزامات لگانے کی صورت میں ضروری ہے کہ معلومات کی تصدیق کی جائے اور متعلقہ شخص کا مؤقف بھی لیا جائے۔
اسی طرح محض تنقید، اختلاف یا کسی کے خلاف شکایت کو جرم قرار نہیں دیا جا سکتا؛ قانونی کارروائی شواہد اور متعلقہ قانون کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
شہری کیا کریں؟
جعلی اکاؤنٹس، آن لائن بلیک میلنگ یا ہراسانی کی صورت میں متعلقہ حکام کو شکایت درج کرائیں۔
متعلقہ پوسٹس، پیغامات اور اکاؤنٹس کے لنکس سمیت دستیاب شواہد محفوظ رکھیں۔
کسی بھی غیر مصدقہ الزام کو تحقیق کے بغیر آگے شیئر کرنے سے گریز کریں۔
متاثرہ شخص کی نجی تصاویر یا ذاتی معلومات مزید پھیلانے کے بجائے متعلقہ پلیٹ فارم اور حکام کو رپورٹ کریں۔
پیغام: سوشل میڈیا کو کسی کی عزت، شہرت اور نجی زندگی تباہ کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ جعلی اکاؤنٹس، ہراسانی، بلیک میلنگ اور دانستہ کردار کشی کے الزامات کی شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔

ووٹنگ جاری ہے! اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دیں
آخری تاریخ: 31 اکتوبر 2026