مانسہرہ ڈاٹ کام مانسہرہ ڈاٹ کام
20 جمادی الاول 1448 ہجری · اتوار، 1 نومبر 2026
آج کی حدیث
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہوتا ہے۔“ حوالہ: صحیح مسلم، حدیث 2999 ہر حال میں صبر کریں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھیں۔ ہر مشکل ہمیں کوئی نہ کوئی قیمتی سبق سکھا سکتی ہے۔ 🌷
اپنی خبر بھیجیں
تازہ ترین
ٹیکسلا: گاڑی کھڑی کرنے کے تنازع پر پولیس کا مبینہ تشدد، نوجوان جاں بحق، ورثاء کا میوزیم روڈ پر احتجاج • نوشہرہ: اسسٹنٹ کمشنر اوگی عادل وسیم کی گاڑی پر فائرنگ، افسر شدید زخمی حالت میں پشاور منتقل • مانسہرہ: ڈپٹی کمشنر یاسر علی خان کی زیرِ صدارت ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس، بروقت تکمیل اور تعمیراتی معیار یقینی بنانے کی ہدایت • پی ٹی آئی کا باضابطہ اعلان، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا برقرار، تبدیلی سے متعلق بحث پر پابندی • مانسہرہ: آن لائن کھلی کچہری میں شہری کی شکایت پر فوری کارروائی، سکول اوقات میں ہیوی ٹریفک پر پابندی کا فیصلہ • مانسہرہ: کاروباری شخصیت طارق خان سواتی کا ضلعی انتظامیہ کے نوٹس پر رضاکارانہ طور پر بورڈ ہٹانا، عوامی حلقوں کا خراجِ تحسین • مانسہرہ: کمسن بچی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ، نامزد ملزم گرفتار، پولیس کی تفتیش جاری • مانسہرہ: عباسی چوک میں سائلنسر کی دکان پر دھماکہ، 3 افراد زخمی • ٹیکسلا: گاڑی کھڑی کرنے کے تنازع پر پولیس کا مبینہ تشدد، نوجوان جاں بحق، ورثاء کا میوزیم روڈ پر احتجاج • نوشہرہ: اسسٹنٹ کمشنر اوگی عادل وسیم کی گاڑی پر فائرنگ، افسر شدید زخمی حالت میں پشاور منتقل • مانسہرہ: ڈپٹی کمشنر یاسر علی خان کی زیرِ صدارت ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس، بروقت تکمیل اور تعمیراتی معیار یقینی بنانے کی ہدایت • پی ٹی آئی کا باضابطہ اعلان، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا برقرار، تبدیلی سے متعلق بحث پر پابندی • مانسہرہ: آن لائن کھلی کچہری میں شہری کی شکایت پر فوری کارروائی، سکول اوقات میں ہیوی ٹریفک پر پابندی کا فیصلہ • مانسہرہ: کاروباری شخصیت طارق خان سواتی کا ضلعی انتظامیہ کے نوٹس پر رضاکارانہ طور پر بورڈ ہٹانا، عوامی حلقوں کا خراجِ تحسین • مانسہرہ: کمسن بچی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ، نامزد ملزم گرفتار، پولیس کی تفتیش جاری • مانسہرہ: عباسی چوک میں سائلنسر کی دکان پر دھماکہ، 3 افراد زخمی •
بریکنگ نیوز

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد سیاسی صورتحال کشیدہ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت 8 پی ٹی آئی رہنما حفاظتی تحویل میں ہونے کا دعویٰ

12-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 101 وزٹ
Read in English
پشاور: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کی سیاسی اور انتظامی صورتحال میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 8 اہم رہنماؤں کو پولیس نے حفاظتی تحویل میں لے رکھا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے تمام زیرِ تحویل رہنماؤں کی مکمل فہرست اور اس اقدام کی قانونی بنیاد کے بارے میں تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت اہم رہنما حفاظتی تحویل میں
میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اہم سیاسی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے ایک سینئر افسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا تعلق صوبے کی موجودہ صورتحال سے ہے۔
رپورٹس میں جن رہنماؤں کے نام سامنے آئے ہیں، ان میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر 8 رہنما حفاظتی تحویل میں ہیں، تاہم باقی رہنماؤں کے نام اور انہیں تحویل میں لیے جانے کے حالات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کی وضاحت
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کرنے کے بجائے حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات نے صوبائی اسمبلی کی حیثیت اور صوبے کے انتظامی معاملات میں تبدیلیوں سے متعلق بھی وضاحت کی تھی۔ ان کے مطابق نئے انتظامی بندوبست کے ذریعے صوبے کے امور چلائے جائیں گے۔
تاہم صوبائی اسمبلی کی آئینی حیثیت، منتخب عہدیداروں کے اختیارات اور گورنر راج کے دائرۂ کار سے متعلق حتمی صورتحال کا تعین متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشنز اور آئینی و قانونی دستاویزات کی روشنی میں کیا جانا ضروری ہے۔
آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اقدامات
اطلاعات کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق سمری کی منظوری دی۔
اس اقدام کے لیے آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان آئینی دفعات کا تعلق ہنگامی حالات اور بعض مخصوص حالات میں صوبائی انتظامی امور سے متعلق اختیارات کے استعمال سے ہے۔ تاہم ان دونوں دفعات کا دائرۂ کار مختلف ہے، اس لیے موجودہ اقدام کی قانونی حیثیت اور اس کے اثرات کو متعلقہ نوٹیفکیشن اور آئینی شرائط کے مطابق سمجھنا ضروری ہے۔
پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو اس اقدام کی وجہ بتایا گیا ہے۔
صوبے میں انتظامی تبدیلیاں اور سکیورٹی انتظامات
گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے گورنر کی معاونت کی غرض سے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی قومی اسمبلی کی رکن ثمر ہارون بلور کو کونسل میں مشیر برائے اطلاعات و نشریات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
اسی تناظر میں صوبے میں سکیورٹی انتظامات کے لیے فوج کی تعیناتی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم تعیناتی کے دائرۂ کار، قانونی بنیاد اور انتظامی ذمہ داریوں سے متعلق تفصیلات کی سرکاری تصدیق ضروری ہے۔
سیاسی صورتحال پر ممکنہ اثرات
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور اہم سیاسی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی اطلاعات نے صوبے میں سیاسی صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
موجودہ صورتحال میں چند بنیادی سوالات اہمیت اختیار کر گئے ہیں: حفاظتی تحویل میں لیے گئے رہنماؤں کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ انہیں کس قانونی اختیار کے تحت تحویل میں رکھا گیا ہے؟ صوبائی اسمبلی اور منتخب حکومت کے اختیارات پر اس اقدام کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اور یہ انتظام کب تک برقرار رہے گا؟
ان سوالات کے واضح جوابات کے لیے متعلقہ حکام کے باضابطہ بیانات، سرکاری نوٹیفکیشنز اور قانونی دستاویزات سامنے آنا ضروری ہیں۔
اہم وضاحت: اس خبر میں بیان کردہ حفاظتی تحویل، گورنر راج، فوج کی تعیناتی اور ایڈوائزری کونسل سے متعلق معلومات کی اشاعت سے قبل معتبر ذرائع اور سرکاری دستاویزات سے تصدیق کی جائے۔ حفاظتی تحویل اور باقاعدہ گرفتاری دو الگ قانونی اصطلاحات ہیں، اس لیے دونوں میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔

اعلانِ وفات و اپیل برائے دعائے مغفرت
اہلِ خانہ کی جانب سے اہم اطلاع: نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہمارے پیارے چچا مرحوم کی میت پاکستان پہنچنے کے بعد نمازِ جنازہ اور تدفین کے تمام انتظامات طے شدہ سفری حکمتِ عملی کے مطابق کیے جائیں گے، جبکہ نمازِ جنازہ کے وقت اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اہلِ خانہ میں راجہ نذیر خان، راجہ نصیر خان، ثاقب خان، نعمان خان (اڈے والے)، فیصل خان عرف موسیٰ بھائی، حیدر خان (MCB بینک)، ایڈووکیٹ راجہ ہادی خان، تشفین خان، حمزہ خان اور راجہ عبدالمجید خان شامل ہیں۔ تمام دوست احباب، عزیز و اقارب اور بزرگوں سے خصوصی اپیل ہے کہ ہمارے مرحوم چچا کے لیے دعائے مغفرت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ منجانب: خاندانِ راجہ نذیر خان، راجپوت گڈز، مانسہرہ۔