بریکنگ نیوز
پنجاب میں گندم کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیاں، 23 لاکھ 40 ہزار ٹن گندم کہاں گئی؟ مونس الٰہی کا سوال
26-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
25 وزٹ
Read in English
لاہور: پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما مونس الٰہی نے پنجاب میں گندم کی خریداری کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گندم کی خریداری کا ہدف 25 لاکھ ٹن مقرر کیا گیا تھا، تاہم ریکارڈ میں صرف ایک لاکھ 60 ہزار ٹن گندم کی خریداری ظاہر کی گئی ہے۔
مونس الٰہی کے مطابق اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو باقی 23 لاکھ 40 ہزار ٹن گندم کے بارے میں وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور اس کی تقسیم کے حوالے سے مکمل تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جا رہیں۔
نجی کمپنیوں اور سرکاری ریکارڈ پر سوالات
پی ٹی آئی رہنما نے مبینہ طور پر نجی کمپنیوں کو نوازنے اور 11 پٹواریوں کے کردار سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کو گندم کی خریداری اور اس سے متعلق تمام معاملات کا حساب دینا چاہیے۔
تاہم ان الزامات اور اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، جبکہ متعلقہ سرکاری اداروں کا مؤقف سامنے آنا بھی اہم ہوگا۔
عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کا مطالبہ
مونس الٰہی نے گندم کی خریداری کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب عام شہری مہنگائی اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کے اخراجات سے پریشان ہیں، گندم جیسے اہم غذائی ذخیرے کے بارے میں شفافیت یقینی بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے حکومتی ریکارڈ، خریداری کے اعداد و شمار اور متعلقہ حکام کے کردار کے حوالے سے وضاحت کی ضرورت پر زور دیا۔
نوٹ: گندم کی مبینہ خوردبرد اور دیگر الزامات کی حتمی تصدیق متعلقہ ریکارڈ، سرکاری وضاحت اور آزادانہ تحقیقات سے ہی ممکن ہے۔
مونس الٰہی کے مطابق اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو باقی 23 لاکھ 40 ہزار ٹن گندم کے بارے میں وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور اس کی تقسیم کے حوالے سے مکمل تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جا رہیں۔
نجی کمپنیوں اور سرکاری ریکارڈ پر سوالات
پی ٹی آئی رہنما نے مبینہ طور پر نجی کمپنیوں کو نوازنے اور 11 پٹواریوں کے کردار سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کو گندم کی خریداری اور اس سے متعلق تمام معاملات کا حساب دینا چاہیے۔
تاہم ان الزامات اور اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، جبکہ متعلقہ سرکاری اداروں کا مؤقف سامنے آنا بھی اہم ہوگا۔
عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کا مطالبہ
مونس الٰہی نے گندم کی خریداری کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب عام شہری مہنگائی اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کے اخراجات سے پریشان ہیں، گندم جیسے اہم غذائی ذخیرے کے بارے میں شفافیت یقینی بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے حکومتی ریکارڈ، خریداری کے اعداد و شمار اور متعلقہ حکام کے کردار کے حوالے سے وضاحت کی ضرورت پر زور دیا۔
نوٹ: گندم کی مبینہ خوردبرد اور دیگر الزامات کی حتمی تصدیق متعلقہ ریکارڈ، سرکاری وضاحت اور آزادانہ تحقیقات سے ہی ممکن ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں