ضلع کی خبریں
ایبٹ آباد: ایک کروڑ 80 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ میں مرکزی ملزم گرفتار، 24 بینک اکاؤنٹس استعمال ہونے کا انکشاف
30-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
18 وزٹ
Read in English
ایبٹ آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے سائبر کرائم سرکل ایبٹ آباد نے مقدمہ نمبر 93/2026 میں مبینہ طور پر ایک کروڑ 80 لاکھ روپے کے فراڈ کے کیس میں مرکزی ملزم سیف خان، سکنہ کنج قدیم ایبٹ آباد، کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق مبینہ مالی فراڈ میں 24 افراد کے بینک اکاؤنٹس استعمال کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے عبدالوہاب نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل عمران خان، ایس ایچ او محمد شاکر اور سب انسپکٹر پاکیزہ کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقدمے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ حکام کے مطابق مرکزی ملزم اس سے قبل عبوری ضمانت پر تھا، تاہم اب اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں اس سے قبل بھی چھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ تین ملزمان ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں۔ دورانِ تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مبینہ طور پر مرکزی ملزم نے اپنے اہلِ خانہ اور ریٹیلرز کے ذاتی بینک اکاؤنٹس استعمال کیے۔ تفتیشی حکام متعلقہ بینک اکاؤنٹس، رقوم کی منتقلی اور اس معاملے میں دیگر ممکنہ افراد کے کردار کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالوہاب نے شہریوں کو مالی فراڈ سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی دوسرے شخص کو اپنا بینک اکاؤنٹ یا موبائل والٹ استعمال کرنے کے لیے فراہم نہ کیا جائے۔ ریٹیلرز بھی کسی کے کہنے پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں غیر متعلقہ رقوم وصول کرنے یا انہیں آگے منتقل کرنے سے گریز کریں۔ اسی طرح اے ٹی ایم کارڈ، پن کوڈ، او ٹی پی اور آن لائن بینکنگ کی خفیہ معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کی جائیں۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ کسی بھی مشکوک مالی لین دین کی صورت میں فوری طور پر اپنے متعلقہ بینک اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
حکام کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش سائبر کرائم سرکل NCCIA ایبٹ آباد کے ایس ایچ او محمد شاکر کر رہے ہیں، جبکہ بینک اکاؤنٹس، مالی لین دین اور دیگر ممکنہ ملزمان کے کردار سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ ملزم کے خلاف الزامات تاحال زیرِ تفتیش ہیں اور جرم ثابت ہونے یا نہ ہونے کا حتمی فیصلہ مجاز عدالت کرے گی۔
اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے عبدالوہاب نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل عمران خان، ایس ایچ او محمد شاکر اور سب انسپکٹر پاکیزہ کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقدمے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ حکام کے مطابق مرکزی ملزم اس سے قبل عبوری ضمانت پر تھا، تاہم اب اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں اس سے قبل بھی چھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ تین ملزمان ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں۔ دورانِ تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مبینہ طور پر مرکزی ملزم نے اپنے اہلِ خانہ اور ریٹیلرز کے ذاتی بینک اکاؤنٹس استعمال کیے۔ تفتیشی حکام متعلقہ بینک اکاؤنٹس، رقوم کی منتقلی اور اس معاملے میں دیگر ممکنہ افراد کے کردار کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالوہاب نے شہریوں کو مالی فراڈ سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی دوسرے شخص کو اپنا بینک اکاؤنٹ یا موبائل والٹ استعمال کرنے کے لیے فراہم نہ کیا جائے۔ ریٹیلرز بھی کسی کے کہنے پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں غیر متعلقہ رقوم وصول کرنے یا انہیں آگے منتقل کرنے سے گریز کریں۔ اسی طرح اے ٹی ایم کارڈ، پن کوڈ، او ٹی پی اور آن لائن بینکنگ کی خفیہ معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کی جائیں۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ کسی بھی مشکوک مالی لین دین کی صورت میں فوری طور پر اپنے متعلقہ بینک اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
حکام کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش سائبر کرائم سرکل NCCIA ایبٹ آباد کے ایس ایچ او محمد شاکر کر رہے ہیں، جبکہ بینک اکاؤنٹس، مالی لین دین اور دیگر ممکنہ ملزمان کے کردار سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ ملزم کے خلاف الزامات تاحال زیرِ تفتیش ہیں اور جرم ثابت ہونے یا نہ ہونے کا حتمی فیصلہ مجاز عدالت کرے گی۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں