بین الاقوامی
اماراتی حکام نے فلائی دبئی کے شریک پائلٹ کے خلاف سزائے موت پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم حتمی عدالتی فیصلے کی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔
09-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
33 وزٹ
Read in English
اماراتی حکام نے فلائی دبئی کے شریک پائلٹ کے خلاف سزائے موت پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم حتمی عدالتی فیصلے کی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔
کیس کا پس منظر
یہ واقعہ 30 ستمبر 2026 کو پیش آیا، جب دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں سوار عمانی شریک پائلٹ حمام الحَمّامی نے کاک پٹ میں ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کر کے طیارے کا کنٹرول چھیننے کی کوشش کی۔
حملے کے نتیجے میں طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تقریباً 16,000 فٹ نیچے گر گیا۔ کپتان سمت مچچر شدید زخمی حالت میں بھی کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے بعد مسافروں اور عملے نے مل کر شریک پائلٹ کو قابو کر لیا۔ طیارے کو بعد ازاں سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔
تفتیش کی صورتحال
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے اس واقعے کو "دہشت گردانہ حملے کی کوشش" قرار دیا ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی شین بیٹ کے اہلکار تفتیش میں شامل ہونے کے لیے امارات پہنچ چکے ہیں۔
ابتدائی تفتیشی معلومات کے مطابق:
· ملزم نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس کا بنیادی منصوبہ بن گوریون ایئرپورٹ پر طیارہ گرانا تھا
· اگر اسرائیل تک پہنچنا ممکن نہ ہوتا تو اس کا متبادل منصوبہ اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانا تھا
· ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے جان بوجھ کر فلائی دبئی کا انتخاب کیا کیونکہ یہ ایئرلائن تل ابیب کے لیے پروازیں چلاتی ہے
· اس نے جولائی 2026 میں بھی حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، لیکن ایک عملے کے رکن سے دوستی کی وجہ سے ملتوی کر دی تھی
پس منظر میں سیکیورٹی خامیاں
تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ الحَمّامی کو عمان ایئر نے 2024 میں مبینہ انتہا پسندانہ نظریات کی وجہ سے پرواز کرنے سے روک دیا تھا اور اسے انتظامی کام پر لگا دیا تھا۔ تاہم، فلائی دبئی میں بھرتی کے وقت اس کے پس منظر کی مکمل جانچ نہیں کی گئی۔
یہ واقعہ فلائی دبئی کے لیے ایک بڑی سیکیورٹی ناکامی سمجھا جا رہا ہے، جس نے غیر ملکی پائلٹس کی سیکیورٹی جانچ اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے سے متعلق نئے سوالات اٹھائے ہیں۔
⚠️ اہم وضاحت
سزائے موت کا فیصلہ ابھی حتمی نہیں ہے۔ مذکورہ معلومات اسرائیلی میڈیا کے ایک سینئر اماراتی ذریعے کے حوالے سے دعوے پر مبنی ہیں۔ اماراتی حکام کی جانب سے اس کی آزادانہ اور سرکاری تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی، اور حتمی عدالتی فیصلہ ہونا باقی ہے۔
کیس کا پس منظر
یہ واقعہ 30 ستمبر 2026 کو پیش آیا، جب دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں سوار عمانی شریک پائلٹ حمام الحَمّامی نے کاک پٹ میں ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کر کے طیارے کا کنٹرول چھیننے کی کوشش کی۔
حملے کے نتیجے میں طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تقریباً 16,000 فٹ نیچے گر گیا۔ کپتان سمت مچچر شدید زخمی حالت میں بھی کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے بعد مسافروں اور عملے نے مل کر شریک پائلٹ کو قابو کر لیا۔ طیارے کو بعد ازاں سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔
تفتیش کی صورتحال
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے اس واقعے کو "دہشت گردانہ حملے کی کوشش" قرار دیا ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی شین بیٹ کے اہلکار تفتیش میں شامل ہونے کے لیے امارات پہنچ چکے ہیں۔
ابتدائی تفتیشی معلومات کے مطابق:
· ملزم نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس کا بنیادی منصوبہ بن گوریون ایئرپورٹ پر طیارہ گرانا تھا
· اگر اسرائیل تک پہنچنا ممکن نہ ہوتا تو اس کا متبادل منصوبہ اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانا تھا
· ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے جان بوجھ کر فلائی دبئی کا انتخاب کیا کیونکہ یہ ایئرلائن تل ابیب کے لیے پروازیں چلاتی ہے
· اس نے جولائی 2026 میں بھی حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، لیکن ایک عملے کے رکن سے دوستی کی وجہ سے ملتوی کر دی تھی
پس منظر میں سیکیورٹی خامیاں
تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ الحَمّامی کو عمان ایئر نے 2024 میں مبینہ انتہا پسندانہ نظریات کی وجہ سے پرواز کرنے سے روک دیا تھا اور اسے انتظامی کام پر لگا دیا تھا۔ تاہم، فلائی دبئی میں بھرتی کے وقت اس کے پس منظر کی مکمل جانچ نہیں کی گئی۔
یہ واقعہ فلائی دبئی کے لیے ایک بڑی سیکیورٹی ناکامی سمجھا جا رہا ہے، جس نے غیر ملکی پائلٹس کی سیکیورٹی جانچ اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے سے متعلق نئے سوالات اٹھائے ہیں۔
⚠️ اہم وضاحت
سزائے موت کا فیصلہ ابھی حتمی نہیں ہے۔ مذکورہ معلومات اسرائیلی میڈیا کے ایک سینئر اماراتی ذریعے کے حوالے سے دعوے پر مبنی ہیں۔ اماراتی حکام کی جانب سے اس کی آزادانہ اور سرکاری تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی، اور حتمی عدالتی فیصلہ ہونا باقی ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں