پاکستان
عالمی بینک کی رپورٹ: خطے کے 48 فیصد انتہائی غریب افراد پاکستان میں رہتے ہیں، غربت کی شرح میں 6.4 فیصد اضافہ
08-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
31 وزٹ
Read in English
اسلام آباد – عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (میناپ) کے خطے میں یومیہ 3 ڈالر (تقریباً 840-850 روپے) سے کم آمدن پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد میں سے 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔
رپورٹ کی اہم تفصیلات
عالمی بینک کی رپورٹ "مڈل ایسٹ، نارتھ افریقہ، افغانستان اینڈ پاکستان اکنامک اپڈیٹ: فرام ڈیوائیڈ ٹو اپورچونٹی — اے آئی، جابز اینڈ گروتھ" کے مطابق:
· پاکستان میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدن پر گزارہ کرنے والے افراد خطے کے مجموعی انتہائی غریبوں کا 48 فیصد ہیں
· افغانستان، شام اور یمن مل کر مزید 47 فیصد ہیں، یعنی ان چار ممالک پر خطے کے انتہائی غریبوں کا تقریباً 95 فیصد بوجھ ہے
· 2024 میں میناپ خطے کی 14.3 فیصد آبادی یومیہ 3 ڈالر سے کم پر زندگی گزار رہی تھی، جبکہ عالمی اوسط 10.4 فیصد ہے
· 4.20 ڈالر یومیہ کی لائن پر خطے کی 26.9 فیصد آبادی غربت میں تھی، جبکہ عالمی شرح 18.9 فیصد رہی
پاکستان میں غربت میں اضافے کی وجوہات
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018-19 سے 2024-25 کے دوران:
· 3 ڈالر یومیہ کی لائن پر غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا
· 4.20 ڈالر یومیہ کی لائن پر 3.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
عالمی بینک نے اس اضافے کی وجوہات میں درج ذیل عوامل کو شامل کیا:
· کورونا وبا
· 2022 کے تباہ کن سیلاب
· بلند مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی
· طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ جس نے حقیقی گھریلو آمدنی اور روزگار کے مواقع کو کمزور کیا
خطے کی منفرد صورتحال
عالمی بینک نے نشاندہی کی کہ میناپ خطہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت قبل از وبا سطح سے بھی اوپر ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی صورتحال میں بگاڑ نے پورے خطے کی غربت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
معاشی outlook
عالمی بینک کے مطابق:
· جی ڈی پی نمو (FY2025-26): 3.7 فیصد متوقع
· فی کس حقیقی جی ڈی پی نمو: 2.1 فیصد
· مہنگائی (2026): 7.1 فیصد تخمینہ، 2027 میں 8.2 فیصد تک اضافے کا امکان
· بجٹ خسارہ: 3.5 فیصد متوقع
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے بعد پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس نے غریب گھرانوں کے لیے زندگی گزارنا مزید مشکل بنا دیا۔
غذائی عدم تحفظ کا خطرہ
عالمی بینک نے پاکستان کو غذائی عدم تحفظ کا شکار ممالک میں شامل کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم آمدنی والے گھر اپنی کل آمدن کا 35 سے 50 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں، جس سے وہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے لیے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔
مزید برآں، ایل نینو کے 2026 کے آخر میں مزید شدت اختیار کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس سے پاکستان میں مون سون کے حالات متاثر ہو سکتے ہیں اور خوراک کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
اہم نکات
اشارے تفصیل
خطے کے انتہائی غریب پاکستان میں 48 فیصد
افغانستان، شام، یمن 47 فیصد
3 ڈالر یومیہ لائن پر غربت میں اضافہ 6.4 فیصد پوائنٹس
4.20 ڈالر یومیہ لائن پر اضافہ 3.2 فیصد پوائنٹس
پٹرول/ڈیزل میں اضافہ 40 فیصد سے زائد
رپورٹ کی اہم تفصیلات
عالمی بینک کی رپورٹ "مڈل ایسٹ، نارتھ افریقہ، افغانستان اینڈ پاکستان اکنامک اپڈیٹ: فرام ڈیوائیڈ ٹو اپورچونٹی — اے آئی، جابز اینڈ گروتھ" کے مطابق:
· پاکستان میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدن پر گزارہ کرنے والے افراد خطے کے مجموعی انتہائی غریبوں کا 48 فیصد ہیں
· افغانستان، شام اور یمن مل کر مزید 47 فیصد ہیں، یعنی ان چار ممالک پر خطے کے انتہائی غریبوں کا تقریباً 95 فیصد بوجھ ہے
· 2024 میں میناپ خطے کی 14.3 فیصد آبادی یومیہ 3 ڈالر سے کم پر زندگی گزار رہی تھی، جبکہ عالمی اوسط 10.4 فیصد ہے
· 4.20 ڈالر یومیہ کی لائن پر خطے کی 26.9 فیصد آبادی غربت میں تھی، جبکہ عالمی شرح 18.9 فیصد رہی
پاکستان میں غربت میں اضافے کی وجوہات
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018-19 سے 2024-25 کے دوران:
· 3 ڈالر یومیہ کی لائن پر غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا
· 4.20 ڈالر یومیہ کی لائن پر 3.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
عالمی بینک نے اس اضافے کی وجوہات میں درج ذیل عوامل کو شامل کیا:
· کورونا وبا
· 2022 کے تباہ کن سیلاب
· بلند مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی
· طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ جس نے حقیقی گھریلو آمدنی اور روزگار کے مواقع کو کمزور کیا
خطے کی منفرد صورتحال
عالمی بینک نے نشاندہی کی کہ میناپ خطہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت قبل از وبا سطح سے بھی اوپر ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی صورتحال میں بگاڑ نے پورے خطے کی غربت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
معاشی outlook
عالمی بینک کے مطابق:
· جی ڈی پی نمو (FY2025-26): 3.7 فیصد متوقع
· فی کس حقیقی جی ڈی پی نمو: 2.1 فیصد
· مہنگائی (2026): 7.1 فیصد تخمینہ، 2027 میں 8.2 فیصد تک اضافے کا امکان
· بجٹ خسارہ: 3.5 فیصد متوقع
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے بعد پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس نے غریب گھرانوں کے لیے زندگی گزارنا مزید مشکل بنا دیا۔
غذائی عدم تحفظ کا خطرہ
عالمی بینک نے پاکستان کو غذائی عدم تحفظ کا شکار ممالک میں شامل کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم آمدنی والے گھر اپنی کل آمدن کا 35 سے 50 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں، جس سے وہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے لیے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔
مزید برآں، ایل نینو کے 2026 کے آخر میں مزید شدت اختیار کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس سے پاکستان میں مون سون کے حالات متاثر ہو سکتے ہیں اور خوراک کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
اہم نکات
اشارے تفصیل
خطے کے انتہائی غریب پاکستان میں 48 فیصد
افغانستان، شام، یمن 47 فیصد
3 ڈالر یومیہ لائن پر غربت میں اضافہ 6.4 فیصد پوائنٹس
4.20 ڈالر یومیہ لائن پر اضافہ 3.2 فیصد پوائنٹس
پٹرول/ڈیزل میں اضافہ 40 فیصد سے زائد
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں