پاکستان
بیرونِ ملک سے موبائل فون منگوانے والوں کے لیے خوشخبری، ایف بی آر نے سیلز ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی سہولت متعارف کرا دی
27-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
8 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے موبائل فونز کی ڈیوائس آئیڈینٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (DIRBS) کے تحت رجسٹریشن کے لیے سیلز ٹیکس ماہانہ اقساط میں ادا کرنے کی سہولت متعارف کرا دی ہے۔
اس سلسلے میں ایف بی آر نے کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 06 آف 2026 جاری کیا ہے، جس کے ذریعے 2019 کے کسٹمز جنرل آرڈر میں ترمیم کرتے ہوئے موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کا طریقہ کار متعین کیا گیا ہے۔
درخواست دیتے وقت اقساط کا انتخاب ممکن
نئے طریقہ کار کے مطابق موبائل فون کی رجسٹریشن کے لیے DIRBS پر درخواست جمع کراتے وقت درخواست گزار سیلز ٹیکس کی ادائیگی ماہانہ اقساط میں کرنے کا انتخاب کر سکیں گے۔
اس سہولت سے بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں، مقامی درخواست گزاروں اور ڈاک یا کوریئر سروس کے ذریعے ذاتی استعمال کے لیے موبائل فون منگوانے والے افراد فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اقساط کی تعداد کیسے طے ہوگی؟
ایف بی آر کے مطابق واجب الادا سیلز ٹیکس برابر ماہانہ اقساط میں ادا کرنا ہوگا۔ اقساط کی تعداد کا تعین متعلقہ مالی سال میں باقی رہ جانے والے مہینوں کی بنیاد پر کیا جائے گا، جبکہ درخواست جمع کرانے والے مہینے کو بھی اقساط کی تعداد میں شامل کیا جائے گا۔
تاہم، جون میں درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر واجب الادا مکمل سیلز ٹیکس اسی ماہ کے اختتام سے پہلے ادا کرنا لازمی ہوگا۔
پہلی قسط درخواست جمع کراتے وقت ادا کرنا ہوگی
نئے نظام کے تحت پہلی قسط درخواست جمع کراتے وقت DIRBS کے ذریعے جاری ہونے والی پیمنٹ سلپ آئی ڈی (PSID) کے ذریعے ادا کی جائے گی۔
اگر کسی مہینے میں ادائیگی کی کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہ ہو تو متعلقہ مہینے کے آخری دن تک ادائیگی کرنا ہوگی۔
تمام اقساط 30 جون سے پہلے ادا کرنا لازمی
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ تمام اقساط کی ادائیگی 30 جون، یعنی مالی سال کے اختتام سے پہلے مکمل کرنا ضروری ہوگا۔
درخواست گزاروں کو یہ سہولت بھی حاصل ہوگی کہ وہ مقررہ وقت کا انتظار کیے بغیر تمام اقساط یا کسی بھی قسط کی ادائیگی پیشگی کر سکتے ہیں۔
اس اقدام سے بیرونِ ملک سے موبائل فون منگوانے اور انہیں پاکستان میں رجسٹر کرانے والے افراد کو سیلز ٹیکس کی ادائیگی میں سہولت ملنے کی توقع ہے۔
نوٹ: موبائل فون کی رجسٹریشن اور اقساط سے متعلق حتمی شرائط کے لیے ایف بی آر کے اصل کسٹمز جنرل آرڈر سے تصدیق کر لیں۔
اس سلسلے میں ایف بی آر نے کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 06 آف 2026 جاری کیا ہے، جس کے ذریعے 2019 کے کسٹمز جنرل آرڈر میں ترمیم کرتے ہوئے موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کا طریقہ کار متعین کیا گیا ہے۔
درخواست دیتے وقت اقساط کا انتخاب ممکن
نئے طریقہ کار کے مطابق موبائل فون کی رجسٹریشن کے لیے DIRBS پر درخواست جمع کراتے وقت درخواست گزار سیلز ٹیکس کی ادائیگی ماہانہ اقساط میں کرنے کا انتخاب کر سکیں گے۔
اس سہولت سے بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں، مقامی درخواست گزاروں اور ڈاک یا کوریئر سروس کے ذریعے ذاتی استعمال کے لیے موبائل فون منگوانے والے افراد فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اقساط کی تعداد کیسے طے ہوگی؟
ایف بی آر کے مطابق واجب الادا سیلز ٹیکس برابر ماہانہ اقساط میں ادا کرنا ہوگا۔ اقساط کی تعداد کا تعین متعلقہ مالی سال میں باقی رہ جانے والے مہینوں کی بنیاد پر کیا جائے گا، جبکہ درخواست جمع کرانے والے مہینے کو بھی اقساط کی تعداد میں شامل کیا جائے گا۔
تاہم، جون میں درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر واجب الادا مکمل سیلز ٹیکس اسی ماہ کے اختتام سے پہلے ادا کرنا لازمی ہوگا۔
پہلی قسط درخواست جمع کراتے وقت ادا کرنا ہوگی
نئے نظام کے تحت پہلی قسط درخواست جمع کراتے وقت DIRBS کے ذریعے جاری ہونے والی پیمنٹ سلپ آئی ڈی (PSID) کے ذریعے ادا کی جائے گی۔
اگر کسی مہینے میں ادائیگی کی کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہ ہو تو متعلقہ مہینے کے آخری دن تک ادائیگی کرنا ہوگی۔
تمام اقساط 30 جون سے پہلے ادا کرنا لازمی
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ تمام اقساط کی ادائیگی 30 جون، یعنی مالی سال کے اختتام سے پہلے مکمل کرنا ضروری ہوگا۔
درخواست گزاروں کو یہ سہولت بھی حاصل ہوگی کہ وہ مقررہ وقت کا انتظار کیے بغیر تمام اقساط یا کسی بھی قسط کی ادائیگی پیشگی کر سکتے ہیں۔
اس اقدام سے بیرونِ ملک سے موبائل فون منگوانے اور انہیں پاکستان میں رجسٹر کرانے والے افراد کو سیلز ٹیکس کی ادائیگی میں سہولت ملنے کی توقع ہے۔
نوٹ: موبائل فون کی رجسٹریشن اور اقساط سے متعلق حتمی شرائط کے لیے ایف بی آر کے اصل کسٹمز جنرل آرڈر سے تصدیق کر لیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں