Mansehra.com مانسہرہ ڈاٹ کام
29 ربیع الثانی 1448 ہجری پیر، 12 اکتوبر 2026·28 اسو
آج کی حدیث رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا، جمعہ کا دن ہے۔“ 854 حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر
تازہ ترین
ایبٹ آباد: شارخ علی خان نے کمشنر ہزارہ ڈویژن کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا ● ایبٹ آباد بورڈ: 12 اکتوبر سے شروع ہونے والے ایس ایس سی اے-II 2026 کے تمام پرچے ملتوی ● خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر ہاؤس پر حملے کا دعویٰ، بابر سلیم سواتی سمیت متعدد افراد کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ● سہیل آفریدی کا علی امین گنڈاپور سے متعلق اہم بیان، ● خیبر پختونخوا میں 11 ارکان اسمبلی مبینہ طور پر اغوا یا گرفتار، اسپیکر بابر سلیم سواتی کا دعویٰ ● خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی تیاریاں مکمل؟ عادل شہباز کا بڑا دعویٰ، فیصلہ آئندہ 48 گھنٹوں میں متوقع ● شوکت یوسفزئی کا وفاقی حکومت کو دوٹوک پیغام: دھمکیاں نہ دیں، نہ ایمرجنسی لگا سکتے ہیں نہ گورنر راج ● مردان: ایمرجنسی نافذ ہوئی تو کیا لانگ مارچ کا رخ پشاور کی طرف ہوگا؟ سہیل آفریدی کا وفاقی حکومت کو دوٹوک جواب ● ایبٹ آباد: شارخ علی خان نے کمشنر ہزارہ ڈویژن کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا ● ایبٹ آباد بورڈ: 12 اکتوبر سے شروع ہونے والے ایس ایس سی اے-II 2026 کے تمام پرچے ملتوی ● خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر ہاؤس پر حملے کا دعویٰ، بابر سلیم سواتی سمیت متعدد افراد کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ● سہیل آفریدی کا علی امین گنڈاپور سے متعلق اہم بیان، ● خیبر پختونخوا میں 11 ارکان اسمبلی مبینہ طور پر اغوا یا گرفتار، اسپیکر بابر سلیم سواتی کا دعویٰ ● خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی تیاریاں مکمل؟ عادل شہباز کا بڑا دعویٰ، فیصلہ آئندہ 48 گھنٹوں میں متوقع ● شوکت یوسفزئی کا وفاقی حکومت کو دوٹوک پیغام: دھمکیاں نہ دیں، نہ ایمرجنسی لگا سکتے ہیں نہ گورنر راج ● مردان: ایمرجنسی نافذ ہوئی تو کیا لانگ مارچ کا رخ پشاور کی طرف ہوگا؟ سہیل آفریدی کا وفاقی حکومت کو دوٹوک جواب ●
پاکستان

ثمر ہارون بلور: شوہر کی شہادت کے بعد سیاست میں قدم، اب گورنر کی ایڈوائزری کونسل میں مشیر اطلاعات مقرر

12-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 30 وزٹ
Read in English
پشاور – یہ بات دانیال بلور نے اپنے والد ہارون بلور کی شہادت کے چند گھنٹے بعد عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنماؤں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
آخری لمحات
رات کے تقریباً 11 بجے انہوں نے اپنے بیٹے دانیال کو فون کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کا نمبر مصروف جا رہا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنے دوست کے ذریعے دانیال کو پیغام بھجوایا کہ "آپ میٹنگ میں آنے سے گریز کریں۔"
اس فون کال کے تقریباً 20 منٹ بعد پشاور کے علاقے یکہ توت میں دھماکہ ہوا، جس میں ان کے والد ہارون بلور جان سے گئے۔
یہ واقعہ 10 جولائی 2018 کو اس وقت پیش آیا جب ہارون بلور عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی مہم کے لیے کارنر میٹنگ میں موجود تھے۔ وہ جیسے ہی سٹیج کی طرف جا رہے تھے تو یہ وقوعہ رونما ہوا۔
ہارون بلور کی انتخابی مہم
ہارون بلور خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقے پی کے 78 سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ اس روز ان کی زندگی کا سفر ختم ہو گیا، جس کے بعد ان کی اہلیہ ثمر ہارون بلور کو سیاسی میدان میں قدم رکھنا پڑا، حالانکہ وہ سیاست میں آنا نہیں چاہتی تھیں۔
ثمر ہارون بلور کا پس منظر
ثمر ہارون بلور کا تعلق بھی ایک سیاسی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد عرفان اللہ مروت سندھ کی سیاست میں سرگرم رہے اور متعدد مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
شادی کے بعد ان کا تعلق پشاور کے معروف بلور خاندان سے جڑ گیا۔ ان کے سسر بشیر احمد بلور عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق سینئر وزیر تھے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ بشیر احمد بلور بھی 22 دسمبر 2012 کو پشاور میں ایک حملے میں جان سے گئے تھے۔
سیاست میں قدم
ثمر ہارون بلور اس سے پہلے خود انتخاب لڑنے یا اسمبلی کی رکن بننے کے لیے عملی سیاست میں نہیں آئی تھیں۔
معروف صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے اکتوبر 2018 میں لکھا کہ ہارون بلور کی شہادت کے بعد حالات نے ثمر کو فعال سیاست میں آنے پر مجبور کیا۔ ان کے بیان کے مطابق وہ اس مرحلے کے لیے تیار نہیں تھیں، لیکن خاندان خصوصاً ان کے دونوں بیٹوں نے انہیں انتخابات میں حصہ لینے پر آمادہ کیا۔
ضمنی انتخاب میں کامیابی
یہاں سے ثمر ہارون بلور کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی نے انہیں ہارون بلور کی خالی ہونے والی نشست پر امیدوار نامزد کیا۔ 21 اکتوبر 2018 کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔
اس کامیابی کے ساتھ وہ پشاور سے خیبر پختونخوا اسمبلی کی جنرل نشست جیتنے والی نمایاں خواتین میں شامل ہوئیں۔
اپنی الگ شناخت
اب انہیں اپنے شوہر کے نام اور خاندان کی سیاسی میراث سے آگے بڑھ کر اپنی الگ شناخت بنانی تھی۔
وہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان اور سابق رکن صوبائی اسمبلی کی حیثیت سے بھی سرگرم رہیں۔
2024 کے عام انتخابات میں وہ پی کے 78 کی نشست برقرار نہ رکھ سکیں۔ یہ ان کے سیاسی سفر کا ایک اہم موڑ تھا۔
سیاسی تبدیلی
پھر جولائی 2025 میں ان کے سیاسی سفر میں ایک اور بڑی تبدیلی آئی۔ ثمر ہارون بلور نے عوامی نیشنل پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ ثمر ہارون بلور کے مطابق مسلم لیگ (ن) سے بات چیت ایک عرصے سے جاری تھی اور وہ پشاور کے لیے کام کرنا چاہتی تھیں۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ ان کی شمولیت کے پیچھے مخصوص نشست یا سیاسی عہدے کی یقین دہانی ہو سکتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے بعد ثمر ہارون بلور قومی اسمبلی کی رکن بنیں۔
گورنر کی ایڈوائزری کونسل میں شمولیت
اور اب جا کر آج یعنی 11 اکتوبر 2026 کو جب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اعلان کے بعد صوبے کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے گورنر کی معاونت میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی تو اس کونسل میں ثمر ہارون بلور کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
انہیں مشیر برائے اطلاعات و نشریات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
تدوین: ادیب یوسفزئ

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔