اسکول
دیر کالونی اسکول سانحہ: بچوں کی زیادہ تر اموات سر پر شدید چوٹیں لگنے سے ہوئیں، اسپتال حکام
16-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
22 وزٹ
Read in English
پشاور، 15 اکتوبر 2026: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں پیش آنے والے اسکول سانحے کے حوالے سے اسپتال حکام نے بتایا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی زیادہ تر اموات سر پر شدید چوٹیں لگنے کے باعث ہوئیں، جبکہ سینے اور پیٹ پر آنے والی شدید چوٹیں بھی اموات کی وجہ بنیں۔
اسپتال حکام کے مطابق عمارت کے ملبے تلے دبنے کے باعث بچوں کے سر، سینے اور پیٹ پر شدید چوٹیں آئیں۔
35 افراد جاں بحق
حکام کے مطابق دیر کالونی اسکول واقعے میں مجموعی طور پر 35 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان میں 31 بچے، 3 بچیاں اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔
جاں بحق ہونے والے افراد میں سے 33 کی میتیں لیڈی ریڈنگ اسپتال جبکہ 2 بچوں کی میتیں نصیراللہ بابر میموریل اسپتال منتقل کی گئیں۔
53 زخمی اسپتال منتقل
اسپتال حکام کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والے مجموعی طور پر 53 افراد کو مختلف اسپتالوں میں لایا گیا۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 20 زخمیوں جبکہ نصیراللہ بابر میموریل اسپتال میں 33 زخمی بچوں کو منتقل کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ طبی امداد فراہم کرنے کے بعد 50 زخمیوں کو اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا، جبکہ 3 زخمی لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت پر سوالات
اس افسوسناک واقعے کے بعد نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حالت، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے عمارتوں کا باقاعدہ معائنہ اور حفاظتی معیار پر عمل درآمد انتہائی اہم ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق عمارت کے ملبے تلے دبنے کے باعث بچوں کے سر، سینے اور پیٹ پر شدید چوٹیں آئیں۔
35 افراد جاں بحق
حکام کے مطابق دیر کالونی اسکول واقعے میں مجموعی طور پر 35 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان میں 31 بچے، 3 بچیاں اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔
جاں بحق ہونے والے افراد میں سے 33 کی میتیں لیڈی ریڈنگ اسپتال جبکہ 2 بچوں کی میتیں نصیراللہ بابر میموریل اسپتال منتقل کی گئیں۔
53 زخمی اسپتال منتقل
اسپتال حکام کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والے مجموعی طور پر 53 افراد کو مختلف اسپتالوں میں لایا گیا۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 20 زخمیوں جبکہ نصیراللہ بابر میموریل اسپتال میں 33 زخمی بچوں کو منتقل کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ طبی امداد فراہم کرنے کے بعد 50 زخمیوں کو اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا، جبکہ 3 زخمی لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت پر سوالات
اس افسوسناک واقعے کے بعد نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حالت، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے عمارتوں کا باقاعدہ معائنہ اور حفاظتی معیار پر عمل درآمد انتہائی اہم ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں