مانسہرہ / ایبٹ آباد: خیبر پختونخوا حکومت نے ضلع مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں اراضی کے انتقالات (Mutation) پر عائد پابندی باضابطہ طور پر ختم کر دی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ مال (بورڈ آف ریونیو) کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
محکمہ مال کے جاری کردہ احکامات کے مطابق دونوں اضلاع میں زمینوں کی خرید و فروخت، انتقالات، رجسٹریشن اور دیگر متعلقہ ریونیو معاملات معمول کے مطابق دوبارہ شروع کیے جا سکیں گے۔ پابندی کے خاتمے کے بعد عوام، سرمایہ کاروں، جائیداد مالکان اور ریئل اسٹیٹ سے وابستہ افراد کو درپیش مشکلات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق انتقالات پر عائد پابندی کے باعث گزشتہ کئی ماہ سے متعدد اراضی معاملات التواء کا شکار تھے، جس سے نہ صرف شہریوں کو قانونی و انتظامی مسائل کا سامنا تھا بلکہ جائیداد کے کاروبار اور سرمایہ کاری کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی تھیں۔
نوٹیفیکیشن کے اجرا کے بعد ضلعی انتظامیہ، اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلداروں اور متعلقہ ریونیو حکام کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ انتقالات اور اراضی سے متعلق زیر التواء کیسز کو قانون اور قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
عوامی و کاروباری حلقوں نے صوبائی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے جائیداد کے شعبے میں سرگرمیاں بحال ہوں گی، سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور عوام کو درپیش مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔
📌 اہم نکات:
• مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں زمینوں کے انتقالات پر پابندی ختم۔
• محکمہ مال نے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔
• خرید و فروخت اور انتقالات کا عمل دوبارہ شروع ہوگا۔
• زیر التواء اراضی معاملات نمٹانے کی راہ ہموار۔
• ریئل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کے شعبے میں بہتری کی توقع۔
📢 صوبائی حکومت نے مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں زمینوں کے انتقالات پر عائد پابندی ختم کر دی.
21