مالِ مقدمہ گاڑیوں کی مبینہ غیر قانونی تقسیم کا معاملہ، ریکارڈ سامنے آنے پر نئے سوالات جنم لینے لگے.

19

پشاور: خیبر پختونخوا میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے زیرِ تحویل مالِ مقدمہ اور نان کسٹم پیڈ (NCP) گاڑیوں کی مبینہ غیر قانونی منتقلی اور استعمال سے متعلق انکشافات سامنے آنے کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سامنے آنے والی دستاویزات اور دعوؤں نے سرکاری طریقہ کار، احتسابی نظام اور ضبط شدہ گاڑیوں کے انتظام سے متعلق متعدد سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق بعض مالِ مقدمہ اور این سی پی گاڑیاں، جنہیں قانونی کارروائی مکمل ہونے تک سرکاری تحویل میں رکھا جانا چاہیے تھا، مبینہ طور پر مختلف بااثر شخصیات اور افراد کے زیرِ استعمال ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان گاڑیوں کو متعلقہ ویئر ہاؤسز میں رکھنے یا قانونی نیلامی کے عمل سے گزارنے کے بجائے مخصوص حلقوں کو فراہم کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سرکاری خط نمبر 145/IPW/XXIII میں ایک ٹویوٹا پریئس 2019 ماڈل، رجسٹریشن نمبر AUA-145، ضلع کرک سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کے نام الاٹ کیے جانے کا ذکر موجود ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر گاڑی کسی مقدمے کا حصہ ہو تو عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک اسے مالِ مقدمہ کے طور پر محفوظ رکھا جاتا ہے اور اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ کے احکامات بھی موجود ہیں۔ اسی تناظر میں سامنے آنے والے دعوؤں نے قانونی اور انتظامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایسی گاڑیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے اور مبینہ طور پر مختلف اضلاع میں متعدد گاڑیاں بااثر شخصیات، ان کے قریبی افراد یا سیاسی شخصیات کے زیرِ استعمال ہیں، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ حکومتی ردعمل اور ممکنہ تحقیقات کے حوالے سے بھی کوئی سرکاری اعلان جاری نہیں کیا گیا۔
یہ معاملہ اب ایک اہم انتظامی اور احتسابی سوال کی شکل اختیار کر چکا ہے، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مالِ مقدمہ گاڑیوں کے ریکارڈ، سپرداری، استعمال اور نیلامی کے تمام معاملات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں