کھٹمنڈو (نیپال) سے رپورٹ:
گزشتہ روزوں نیپال میں آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے ملک کے بیشتر حصوں کو تباہی کے گھیرے میں لے لیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ہزاروں افراد ہلاک جبکہ لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ مکانات، سکول، بس سٹینڈز اور ہوٹل سب پانی میں بہہ گئے۔ سیلاب نے بدھ مت کے کئی مندروں اور عبادت گاہوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے مذہبی حلقوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔
پنڈت کا متنازعہ بیان:
اسی دوران ایک بدھ پنڈت نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں ایک بت کو سیلاب کے بعد سلامت دکھایا گیا۔ پنڈت نے دعویٰ کیا:
“دیکھو! سیلاب نے سب کچھ تباہ کر دیا، لیکن ہمارا خدا (بت) زندہ اور سلامت ہے۔ یہی ہمارا خدا سب لوگوں کا خدا ہے۔ جو کوئی اس کا انکار کرے گا، وہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔”
انہوں نے اس واقعے کو بدھ مت کی سچائی کا ثبوت قرار دیتے ہوئے دنیا بھر میں بدھ مت قبول کرنے کی پیشکش بھی کی۔
ماہرین اور علمائے اسلام کا ردِ عمل:
اسلامی اسکالرز نے اس دعوے کو “غیر عقلی اور غیر سائنسی” قرار دیا ہے۔ معروف عالم دین مولانا عبدالرحمن نے کہا:
“کسی بت کا سیلاب میں سلامت رہنا کوئی مذہبی حقیقت نہیں، بلکہ یہ تعمیراتی معیار یا اتفاق ہو سکتا ہے۔ قرآن میں واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ بے مثال اور بے نیاز ہے، اور وہی حقیقی معبود ہے۔ بت نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔”
انہوں نے مزید کہا:
“اسلام توحید، امن اور انسانیت کا دین ہے۔ یہ کسی کی مجبوری یا المیے کو اپنے حق میں دلیل نہیں بناتا، بلکہ عقلی اور نقلی دلائل پیش کرتا ہے۔”
حقیقت کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق قدرتی آفات میں کسی چیز کا سلامت رہنا کوئی مذہبی معجزہ نہیں، بلکہ یہ مکمل طور پر طبعی اور جغرافیائی عوامل پر منحصر ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں نے انسانیت کو یکجا ہونے کا موقع دیا ہے، نہ کہ مذہبی تفریق کا۔
دعا اور اپیل:
انسانیت کے نام پر ہم تمام متاثرین کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی مشکلات دور کرے۔ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ نیپال میں امدادی کارروائیوں میں بھرپور حصہ ڈالیں۔
اللہ ہی برحق ہے، اور وہی ہر چیز کا مالک اور کارساز ہے۔
نیپال میں سیلاب کی تباہ کاریاں اور بدھ پنڈت کا متنازعہ دعویٰ
24