اسلام آباد – پاکستان قطبی علاقوں (انٹارکٹیکا اور آرکٹک) کے باہر دنیا میں گلیشیئرز کی سب سے بڑی تعداد رکھتا ہے۔ یہ تعداد 7,253 سے زائد ہے، جو ملک کے شمالی علاقوں، خاص طور پر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں واقع ہے۔
یہ عظیم الشان گلیشیائی نظام قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش — دنیا کے تین بلند ترین پہاڑی سلسلوں — کے سنگم پر واقع ہے۔ اس خطے کو برف کی بے پناہ مقدار کی وجہ سے اکثر زمین کا “تیسرا قطب” (Third Pole) بھی کہا جاتا ہے۔
دنیا کے طویل ترین غیر قطبی گلیشیئرز
یہاں سیاچن (76 کلومیٹر)، بیافو (67 کلومیٹر)، بالتورو (63 کلومیٹر) اور بتورا (57 کلومیٹر) جیسے دنیا کے طویل ترین غیر قطبی گلیشیئرز پائے جاتے ہیں۔
پاکستان کا “آبی ٹاور”
یہ گلیشیئرز پاکستان کے لیے ایک “آبی ٹاور” (Water Tower) کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا انہی کے پگھلنے سے جاری رہتے ہیں اور ملک کی 80 فیصد سے زائد زراعت، پینے کے پانی اور پن بجلی کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
بڑھتا ہوا ماحولیاتی خطرہ
تاہم، عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں (Climate Change) اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور سیلاب کے خطرات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پگھلنے کی شرح میں تیزی آئی ہے، جس سے نچلی وادیوں میں آنے والے نقصانات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
حکومتی اقدامات
حکومت پاکستان اور متعلقہ ادارے، بشمول سپارکو، گلیشیئرز اور گلیشیائی جھیلوں کی سیٹلائٹ کے ذریعے 24/7 نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ GLOF واقعے سے پہلے ابتدائی وارننگ جاری کی جا سکے۔ماہرین کا مشورہ.
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدرتی خزانے کو تحفظ دینے اور ممکنہ تباہی سے بچنے کے لیے:
· جدید مانیٹرنگ سسٹم کو مزید موثر بنایا جائے
· مقامی کمیونٹیز کو GLOF سے بچاؤ کی تربیت دی جائے
· موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف عالمی سطح پر اقدامات میں پاکستان کا کردار مزید فعال بنایا جائے
پاکستان کا گلیشیائی نظام قومی بقا کا ضامن ہے۔ یہ پانی، خوراک اور توانائی کی فراہمی کا ذریعہ ہے، لیکن بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے اسے ایک ماحولیاتی چیلنج میں تبدیل کر دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، ادارے اور عوام مل کر اس چیلنج سے نمٹیں اور اس قدرتی خزانے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنائیں۔


پاکستان کا “تیسرا قطب”: 7,253 گلیشیئرز کا خزانہ، پانی کی سلامتی اور ماحولیاتی خطرات کے درمیان.
15