اسلام آباد – پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے، وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات اور علاقائی حالات ملک کو یمن کے حوثیوں کے تنازعے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی ذمہ داری صرف سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود ہے، نہ کہ یمن کے اندر جا کر حملے کرنا۔ یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کی داخلی جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔
پاکستان نے ایران کو بھی پیغام دیا ہے کہ وہ حوثیوں پر اپنا اثر استعمال کرکے سعودی عرب پر حملے روکنے میں مدد کرے۔ تاہم ایرانی حکام کا جواب ہے کہ ایران حوثیوں کو کنٹرول نہیں کرتا، جو کہ حقیقت کے قریب بھی لگتا ہے۔
پاکستان سعودی عرب کے دفاع میں ایران کے ساتھ بھی کوئی محاذ نہیں کھولنا چاہتا، کیونکہ اس کے ایران کے ساتھ بھی اہم سفارتی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔
پاکستان کے صاحب اختیار کوشش یہی کر رہے ہوں گے کہ سفارتکاری کے ذریعے معاملہ ٹالا جائے اور ملک کو کسی بھی طرح کے علاقائی تنازعے میں شامل ہونے سے بچایا جائے۔
یہ بھی اہم ہے کہ پاکستان کے مقابلے میں سعودی عرب نے افغانستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا ہے، جس سے خطے کی معاشی اور سیاسی صورتحال پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگر معاملہ جنگ کی طرف بڑھتا ہے تو پٹرول کی مہنگائی کے ساتھ ساتھ اشیاء خوردونوش کی مہنگائی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر عام آدمی پر پڑے گا۔
اللہ پاک خیر والا معاملہ فرمائے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی نازک موڑ پر: یمن تنازع، سعودی دفاعی معاہدہ اور سفارتی چیلنجز.
37