سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے ایران تک ایک اہم پیغام پہنچا دیا ہے، جس میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اتحادی یمنی حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے روکنے پر آمادہ کرے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستانی حکام نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف حملوں کی روک تھام کرے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے ایران کو دیا گیا یہ پیغام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی افواج یمن میں داخل نہیں ہوں گی اور کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کو سعودی حدود کے دفاع تک محدود رکھا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق سعودی حکام نے ریاض میں پاکستانی اور ترک فوجی نمائندوں سے ملاقات بھی کی، جس میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ ردِعمل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے پاکستان فوجی، تکنیکی، زمینی یا فضائی معاونت فراہم کر سکتا ہے، تاہم غیر ملکی سرزمین پر براہِ راست جنگی کارروائی میں حصہ لینے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک ایئربیس اور قریبی علاقوں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان کا ایران کو اہم پیغام.
35