صفر کاغذ پر ای-اسٹامپ پیپر کے اجراء کے لیے ای-وینڈر ماڈیول کا آغاز (خیبر، کرک، لکی مروت اور مانسہرہ میں)

16

حکومتِ خیبر پختونخوا نے عوامی سہولت، شفافیت کے فروغ اور اسٹامپ پیپر میں جعلسازی کی روک تھام کے لیے ای-اسٹامپنگ سسٹم کے تحت ای-وینڈر ماڈیول کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس جدید نظام کے تحت اب اسٹامپ پیپر سفید کاغذ پر جاری کیے جائیں گے، جو روایتی اسٹامپ پیپر کی بجائے جدید ڈیجیٹل سیکیورٹی فیچرز سے آراستہ ہوں گے۔
یہ نیا نظام کیو آر کوڈ پر مبنی تصدیق اور دیگر سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ کام کرے گا، جس سے اسٹامپ پیپر کی اصلیت فوری طور پر جانچنا ممکن ہوگا۔ اس ماڈیول کے تحت صوبے کے کچھ اضلاع میں ای-وینڈر یعنی مجاز اسٹامپ فروش درج ذیل شیڈول کے مطابق ای-اسٹامپ پیپر جاری کریں گے:
ضلع خیبر — 12 فروری 2026
ضلع کرک — 24 فروری 2026
ضلع لکی مروت — 26 فروری 2026
ضلع مانسہرہ — 24 فروری 2026
ای-وینڈرز اس نظام کے ذریعے 150 روپے سے 500 روپے تک کی مالیت کے ای-اسٹامپ پیپر جاری کریں گے۔ اسٹامپ ڈیوٹی اور دیگر سرکاری واجبات کی ادائیگی PSID پر مبنی الیکٹرانک نظام کے ذریعے کی جائے گی، جس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ جعلسازی اور غلط استعمال کے امکانات بھی تقریباً ختم ہو جائیں گے۔
ای-وینڈر ماڈیول کے تحت جاری کردہ ای-اسٹامپ پیپر تمام قانونی، رجسٹریشن اور ثبوتی مقاصد کے لیے مکمل طور پر قابلِ قبول ہوں گے، بشرطیکہ نظامی تصدیق اور کیو آر کوڈ کی توثیق کی جائے۔
اس سہولت کو مرحلہ وار بنیادوں پر صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی متعارف کرایا جائے گا، جس کا انحصار انتظامی تیاری اور نظام کی دستیابی پر ہوگا۔
اس موقع پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خیبر پختونخوا، جناب عامر سلطان ترین نے کہا کہ یہ ماڈیول صوبے کے ڈیجیٹل اصلاحاتی ایجنڈے میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور عوامی خدمات کی فراہمی کو آسان بنانا ہے۔
اسی طرح، ممبر (سیٹلمنٹ اینڈ کنسولیڈیشن، ٹیکسز)، جناب سید عبدالغفور شاہ نے، پراجیکٹ ڈائریکٹر ای-اسٹامپ، جناب عطا الرحمٰن کے ہمراہ، اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نظام گورننس کو مضبوط بنانے، جعلسازی کی روک تھام اور شہریوں کو محفوظ و قابلِ اعتماد اسٹامپ پیپر کی سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر ای-اسٹامپ، عطا الرحمٰن نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف قانونی دستاویزات کی سچائی کی تصدیق آسان ہوگی بلکہ عوامی خدمات میں شفافیت اور اعتماد بھی بڑھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں